مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 82

سو اے مخلصو! خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے دلوں کو قوت بخشے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو ثواب حاصل کرنے اور امتحان میں صادق نکلنے کا یہ موقع دیا ہے۔مال سے محبت مت کرو۔کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ اگر تم مال کو نہیں چھوڑتے تو وہ تمہیں چھوڑ دے گا۔مسیح موعود کے لئے جو وہی مہدی آخر الزمان ہے۔دو پیشگوئیاں تھیں۔ایک پیشگوئی آسمان کے متعلق تھی جو دعویٰ میں صادق ہونے کی نشانی تھی جس میں انسانی ہاتھوں کا دخل نہ تھا یعنی رمضان میں چاند کا پہلی رات میں میں اپنی خسوف کی راتوں میں گرہن لگنا اورسورج کا بیچ کے دن میں اپنے کسوف کے دنوں میں سے گرہن لگنا۔دوسری پیشگوئی زمین کے متعلق تھی جو مسیح کے نازل ہونے کی نشانی تھی اور وہ یہ کہ دمشق کی شرقی طرف ایک سفید منارہ انسانی ہاتھوں سے طیار ہونا۔سو وہ پیشگوئی جس میں انسانی ہاتھوں کا دخل نہ تھا یعنی رمضان میں خسوف کسوف مقررہ تاریخوں میں ہونا وہ تو کئی سال گزر چکے کہ ظہور میں آچکی لیکن یہ پیشگوئی جس میں انسانی ہاتھوں کا دخل ہے یعنی منارہ کا تیار ہونا یہ اب تک ظہور میں نہیں آئی اور مسیح موعود کا حقیقی نزول یعنی ہدایت اور برکات کی روشنی کا دُنیا میں پھیلنا۱؎ یہ اسی پر موقوف ہے کہ یہ پیشگوئی پوری ہو یعنی منارہ طیار ہو کیونکہ مسیح موعود کے لئے جو ۱؎ وہ لوگ بڑی غلطی پر ہیں جویہ گمان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ مسیح جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا تھا اور جسم عنصری کے ساتھ نازل ہو گا۔یاد رہے کہ یہ خیال سراسر اافترا ہے حدیثوں میں اس کا نام و نشان نہیں۔اگر کسی حدیث رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ مسیح جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا تھا اور پھر کسی وقت جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر سے نازل ہو گا یعنی اگرچڑھنا اور اترنا دونوں امر جسم عنصری کے ساتھ کسی حدیث سے ثابت ہو جائیں تو مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ مَیں ایسی صحیح حدیث پیش کرنے والے کو ہزارر وپیہ انعام دوں گالیکن اگر فقط آسمان کا لفظ بغیر شرط جسم عنصری کے کسی حدیث میں پایا جائے تو وہ مخالف کے لئے مفید نہیں ہو گا کیونکہ آسمان سے نزول اور صعود کا لفظ ہمیشہ روحانی امور کے لئے آتا ہے۔اور قرآن شریف میں جو لکھا ہے کہ خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ آسمانی تاثیرات سے نازل کیا۔ورنہ مینہ کا پانی زمین کے ہی بخارات ہیں جو زیادہ سے زیادہ پانچ یا چھ میل تک اوپر چڑھ سکتے ہیں۔منہ