مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 80
مجموعه اشتہارات ۸۰ جلد سوم دونوں مرتبہ مسلمانوں کو اس قصد میں ناکامی رہی ہے۔ اور اس کا سبب یہی تھا کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ قادیان میں منارہ بنے کیونکہ مسیح موعود کے نزول کی یہی جگہ ہے۔ سواب یہ تیسری مرتبہ ہے اور خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو موقع دیا ہے کہ اس ثواب کو حاصل کریں ۔ جو شخص اس ثواب کو ۔ جو حاصل کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہمارے انصار میں سے ہوگا ۔ میں دیکھتا ہوں کہ اگرچہ لاکھوں انسان اس جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہو رہے ہیں مگر مقبول دو گروہ ہی ہیں ۔ (۱) اول وہ گروہ جنہوں نے بعد اس کے جو مجھے پہچان لیا جو میں خدا کی طرف سے ہوں بہت سے نقصان اُٹھا کر اپنے وطنوں سے ہجرت کی اور قادیان میں اپنے گھر بنالئے اور اس درد کی برداشت کی جو ترک وطن اور ترک احباب وطن میں ہوا کرتی ہے۔ یہ گروہ مہاجرین ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کا بڑا قدر ہے۔ کیونکہ خدا کے واسطے اپنے وطنوں کو چھوڑنا اور اپنے چلتے ہوئے کاموں کو خاک میں ملا دینا اور اپنے وطن کی پیاری مٹی کو خدا کے لئے الوداع کہہ دینا کچھ تھوڑی بات نہیں ۔ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ الْمُهَاجِرِينَ ۔ دوسرا گر وہ انصار ہے۔ لے اس ملک کے بعض نادان مولویوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ منارہ پر روپیہ خرچہ کرنا اسراف ہے اور پھر اس پر گھنٹہ رکھنا اور بھی اسراف ۔ لیکن ہمیں تعجب ہے کہ ایسی گستاخی کی باتیں زبان پر لانے والے پھر بھی مسلمان کہلاتے ہیں ۔ یادر ہے کہ اس منارہ کے بنانے سے اصل غرض یہ ہے کہ تا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہو جائے ۔ اسی غرض کے لئے پہلے دو دفعہ منارہ دمشق کی شرقی طرف بنایا گیا تھا جو جل گیا ۔ یہ اسی قسم کی غرض ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی کو کسری کے مال غنیمت میں سے سونے کے کڑے پہنائے تھے تا ایک پیشگوئی پوری ہو جائے ۔ اور نمازیوں کی تائید اور وقت شناسی کے لئے منارہ پر گھنٹہ رکھنا ثواب کی بات ہے نہ گناہ ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ مولوی نہیں چاہتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی پیشگوئی پوری ہو۔ اگر قادیاں کے منارہ پر راضی نہیں تو چاہیے کہ دمشق میں جا کر منارہ بناویں۔ سنن ابن ماجہ کے صفحہ ۳۰۶ پر جو حافظ ابن کثیر کا حاشیہ منارہ اسیح کے بارے میں ہے اُس کو غور سے پڑھیں اور جہالتوں جہال ۔ اور ضلالتوں سے توبہ کریں ۔ منہ