مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 75
کنتم تُعرضون عن الامرین الاوّلین۔و تعتذرون وتقولون انا مااعطینا عین رؤیۃ الغیب ولا من قدرۃ علٰی اجراء تلک العین۔فصارعونی فی فصاحۃ البیان مع التزام بیان معارف القراٰن واختاروا مسحب نظم الکلام۔ولتسحبوا ولا ترھبوا ان کنتم من الادباء الکرام۔وبعد ذالک ینظر الناظرون فی تفاضل الانشاء۔ویحمدون من یستحق الاحماد والابراد و یلعنون من لعن من السماء۔فھل فیکم فارس ھٰذا المیدان۔و مالک ذالک البستان۔وان کنتم لا تقدرون علی البیان۔ولا تکفون حصائد اللسان۔فلستم علی شیئٍ من الصدق والسداد۔ولیس فیکم الامادۃ الفساد۔اتحمون وطیس الجدال۔مع ھٰذہ البرودۃ والجمود والجھل والکلال۔موتوا فی غدیر او بارزونی کقدیر۔و ارونی عینکم ولا تمشوا کضریر۔واتقوا عذاب ملک خبیر۔واذکروا اخذ علیم وبصیر۔وان لم تنتھوا فیاتی زمان بقیہ ترجمہ۔میں کوئی جھگڑا اور اختلاف نہ ہو گا۔پھر اگر تم پہلے دو امور سے اعراض کرتے ہو اور عذر کرتے ہو اور یہ کہتے ہو کہ ہمیں غیب بین آنکھ نہیں دی گئی اور نہ اس چشمہ کو جاری کرنے کی قدرت عطا ہوئی ہے تو تم فصاحت بیان میں معارف قرآنیہ کے بیان کے التزام کے ساتھ مجھے پچھاڑو اور نظم کلا م کے راستہ کو اختیار کرو اور چلو اور ڈرو نہیں اگر تم معزز اُدباء سے ہو۔( تو تم ضرور ایسا کرو گے) اور اس کے بعد دیکھنے والے انشاء پرداری میں ایک دوسرے پر فضلیت ظاہر کرنے کے بارہ میں غور کریں گے اور اس شخص کی تعریف کریں گے جو تعریف کا مستحق ہو گا اور اس شخص پر لعنت کریں گے جو آسمان میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔پس کیا تم میں سے کوئی اس میدان کا شہ سوار ہے۔اور اس باغ کا کوئی مالک ہے۔اور اگر تم قوت بیان نہیں رکھتے اور بد گوئیوں اور ہتک آمیز باتوں سے نہیں رُکتے تو تم صدق و سداد پر قائم نہیں۔اور تم میں فساد کے مادہ کے سوا اور کچھ نہیں۔کیا تم اس برودت، جمود، جہالت اور درماندگی کے باوجود لڑائی میںشدت اختیار کر رہے ہو۔تالاب میں ڈوب مرو یا ایک طاقت ور کی طرح میرے ساتھ مقابلہ کرو۔اور مجھے اپنی آنکھ دکھائو اور اندھے کی طرح نہ چلو۔اور واقف حال چوکنے بادشاہ کے عذاب سے بچو اور علیم و خبیر کی پکڑ کو یاد کرو۔