مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 57
مجموعه اشتہارات ۵۷ جلد سوم ہر ایک طالب حق کو چاہیے کہ دمشق کے لفظ پر خوب غور کرے کہ اس میں حکمت کیا ہے کہ یہ لکھا گیا ہے کہ مسیح موعود دمشق کے شرقی طرف نازل ہوگا ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی قرارداد با تیں صرف امور بقیہ حاشیہ - مسجد تک مقرر کیا گیا جس کے ارد گرد کو برکت دی گئی۔ یہ برکت دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں شوکتِ اسلام ظاہر کی گئی اور حرام کیا گیا کہ کفار کا دست تعدی اسلام کو مٹا دے جیسا کہ آیت وَ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ أَمِنَّا سے ظاہر ہے۔ لیکن زمانہ صیح موعود میں جس کا دوسرا نام مہدی بھی ہے تمام قوموں پر اسلام کی برکتیں ثابت کی جائیں گی اور دکھلایا جائے گا کہ ایک اسلام ہی بابرکت مذہب ہے جیسا کہ بیان کیا گیا کہ وہ ایسا برکات کا زمانہ ہوگا کہ دنیا میں صلح کاری کی برکت پھیلے گی اور آسمان اپنے نشانوں کے ساتھ برکتیں دکھلائے گا اور زمین میں طرح طرح کے پھلوں کے دستیاب ہونے اور طرح طرح کے آراموں سے اس قدر برکتیں پھیل جائیں گی جو اس سے پہلے کبھی نہیں پھیلی ہوں گی۔ اسی وجہ سے مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ کا نام احادیث میں زمان البرکات ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہزار ہانئی ایجادوں نے کیسی زمین پر برکتیں اور آرام پھیلا دیئے ہیں کیونکہ ریل کے ذریعہ سے مشرق اور مغرب کے میوے ایک جگہ اکٹھے ہو سکتے ہیں اور تار کے ذریعہ سے ہزاروں کوسوں کی خبریں پہنچ جاتی ہیں۔ سفر کی وہ تمام مصیبتیں یکدفعہ دور ہو گئیں جو پہلے زمانوں میں تھیں ۔ غرض اس زمانہ کا نام جس میں ہم ہیں زمان البرکات ہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ا زمان التائیدات اور دفع الآفات تھا اور اُس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا بھاری مقصد دفع شر تھا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اُس زمانہ میں اسلام کو اپنے قومی ہاتھ سے دشمنوں سے بچایا اور دشمنوں کو یوں ہانک دیا جیسا کہ ایک مرد مضبوط اپنی لاٹھی سے کتوں کو ہانک دیتا ہے۔ پس چونکہ مسیح اور مہدی موعود کا زمانہ زمان البرکات تھا اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کے حق میں فرمایا بَارَكْنَا حَوْلَهُ یعنی مسیح موعود کی فرودگاہ کے اردگرد جہاں نظر ڈالو گے ہر طرف سے برکتیں نظر آئیں گی چنانچہ تم دیکھتے ہو کہ زمین کیسی آباد ہوگئی باغ کیسے بکثرت ہو گئے نہریں کیسی بکثرت جاری ہو گئیں تمدنی آرام کی چیزیں کیسی کثرت سے موجود ہوگئیں۔ پس یہ زمینی برکات ہیں۔ اور جیسے اس زمانہ میں زمینی اور آسمانی برکتیں بکثرت ظاہر ہوگئی ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ال عمران : ۹۸