مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 58

اتفاقیہ نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے نیچے اسرار اور رموز ہوتے ہیں وجہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی تمام باتیں رموز اور اسرار سے پُر ہیں۔اب ہمارے مخالف گو اس دمشقی حدیث کو بار بار پڑھتے ہیں مگر وہ اس کا جواب نہیں بقیہ حاشیہ۔تائیدات کابھی ایک دریا چل رہا تھا۔فحاصل البیان ان الزمان زمانان۔زمان التائیدات ودفع الاٰفات و زمان البرکات والطیبات والیہ اشار عزاسمہ بقولہ  ۱؎ فاعلم ان لفظ مسجد الحرام فی قولہ تعالٰی یدل علٰی زمانٍ فیہ ظھرت عزۃ حرمات اللہ بتائید من اللّٰہ وظھرت عزۃ حدودہ واحکامہ و فرائضہ وتَرَاء ت شوکۃ دینہ ورعب ملّتہ۔وھو زمان نبینا صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔والمسجد الحرام البیت الذی بناہ ابراھیم علیہ السلام فی مکۃ وھو موجود الٰی ھٰذا الوقت حرسہ اللّٰہ من کلّ آفۃ۔واما قولہ عزّاسمہ بعد ھٰذا القول اعنیفیدل علٰی زمانٍ فیہ یظھر برکاتٍ فی الارض من کل جھۃ کما ذکرناہ اٰنفا وھو زمان المسیح الموعود والمھدی المعہود والمسجد الاقصٰی ھو المسجد الذی بناہ المسیح الموعود فی القادیان سُمّی اَقْصٰی لبُعْدہ من زمان النبوّۃ ولما وقع فی اقصٰی طرفٍ من زمن ابتداء الاسلام فتدبر ھٰذا المقام فانہ اودع اسرارًا من اللّٰہ العلّام۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج تین قسم پر منقسم ہے۔سیر مکانی اور سیرزمانی اور سیر لامکانی ولا زمانی۔سَیر مکانی میں اشارہ ہے طرف غلبہ اور فتوحات پر یعنی یہ اشارہ کہ اسلامی ملک مکہ سے بیت المقدس تک پھیلے گا۔اور سیر زمانی میں اشارہ ہے طرف تعلیمات اور تاثیرات کے یعنی یہ کہ مسیح موعود کا زمانہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات سے تربیت یافتہ ہوگا جیسا کہ قرآن میں فرمایا ہے  ۱؎۔اور سیر لامکانی ولازمانی میں اشارہ ہے طرف اعلیٰ درجہ کے قُرب اللہ اور مدانات کی جس پر دائرہ امکانِ قرب کا ختم ہے۔فَافْھَم۔منہ ۱؎ بنی اسراء یل : ۲ ۲؎ الجمعۃ : ۴