مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 54
۔اور جس کے منارہ کا ذکر حدیث میں بھی ہے کہ مسیح کا نزول منارہ کے پاس ہوگا۔دمشق کا ذکر اس حدیث میں جومسلم نے بیان کی ہے اس غرض سے ہے کہ بقیہ حاشیہ۔وَ کَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔دیکھو براہین احمدیہ صفحہ۴۹۸۔یعنی ہم نے اس مسیح موعود کو قادیاں میں اتارا ہے اور وہ ضرورتِ حقہ کے ساتھ اُتارا گیا اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا۔خدا نے قرآن میں اور رسول نے حدیث میں جو کچھ فرمایاتھا وہ اُس کے آنے سے پورا ہوا۔اس الہام کے وقت جیسا کہ مَیں کئی دفعہ لکھ چکا ہوں مجھے کشفی طور پر یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ یہ الہام قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے اور اس وقت عالم کشف میں میرے دل میں اس بات کا یقین تھا کہ قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے۔یعنی مکّہ اورمدینہ اور قادیاں کا۔اس بات کو قریباً بیس برس ہوگئے جبکہ مَیں نے براہین احمدیہ میں لکھا تھااب اس رسالہ کی تحریر کے وقت میرے پر یہ منکشف ہوا کہ جو کچھ براہین احمدیہ میں قادیان کے بارے میں کشفی طورپر مَیں نے لکھا یعنی یہ کہ اس کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے درحقیقت یہ صحیح بات ہے کیونکہ یہ یقینی امر ہے کہ قرآن شریف کی یہ آیت کہ ۱؎ معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص رہتا ہے پس جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے بیت المقدس تک پہنچا دیا تھا ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکت ِ اسلام کے زمانہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا برکات ِاسلامی کے زمانہ تک جومسیح موعود کا زمانہ ہے پہنچا دیا ۲؎۔۱؎ بنی اسراء یل : ۲ ۲؎ حاشیہ در حاشیہ۔شوکت اسلام کا زمانہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اُس کا اثر غالب یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کی طرح مومنوں کو کفار کے حملہ سے نجات دی اس لئے بیت اللہ کا نام بھی بیت امن رکھا گیا۔لیکن زمانہ برکات کا جومسیح موعود کا زمانہ ہے اس کا یہ اثر ہے کہ ہر قسم کے آرام زمین میں پیدا ہو جائیں اور نہ صرف امن بلکہ عیش رغد بھی حاصل ہو۔منہ