مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 53
اَب اے دوستو! یہ منارہ اس لئے طیار کیا جاتا ہے کہ تا حدیث کے موافق مسیح موعود کے زمانہ کی یادگار ہو اور نیز وہ عظیم پیشگوئی پوری ہو جائے جس کا ذکر قرآن شریف کی اِس آیت میں ہے کہ بقیہ حاشیہ۔ہیں۔حدیث میں اس بات کی تصریح نہیں کہ وہ منارہ دمشق سے ملحق اور اُس کی ایک جزو ہوگا بلکہ اس کے شرقی طرف واقع ہوگا۔پھر دوسری حدیث میں اس بات کی تصریح ہے کہ مسجد اقصیٰ کے قریب مسیح کا نزول ہوگا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ منارہ یہی مسجد اقصیٰ کا منارہ ہے اوردمشق کا ذکر اُس غرض کے لئے ہے جو ہم ابھی بیان کرچکے ہیں۔اور مسجد اقصٰی سے مراد اس جگہ یروشلم کی مسجد نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کی مسجد ہے جو باعتبار بُعد زمانہ کے خدا کے نزدیک مسجد اقصیٰ ہے۔اس سے کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ جس مسجد کی مسیح موعود بنا کرے وہ اس لائق ہے کہ اس کو مسجد اقصیٰ کہا جائے جس کے معنے ہیں مسجد اَبْعَد۔کیونکہ جب کہ مسیح موعود کا وجود اسلام کے لئے ایک انتہائی دیوار ہے اورمقرر ہے کہ وہ آخری زمانہ میں اور بعید تر حصہ دنیا میں آسمانی برکات کے ساتھ نازل ہوگا۔اس لئے ہرایک مسلمان کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کی مسجد مسجد اقصٰی ہے کیونکہ اسلامی زمانہ کاخط ممتد جو ہے اس کے انتہائی نقطہ پر مسیح موعود کا وجود ہے لہٰذا مسیح موعود کی مسجد پہلے زمانہ سے جو صدر اسلام ہے بہت ہی بعید ہے۔سو اس وجہ سے مسجد اقصٰی کہلانے کے لائق ہے اور اس مسجد اقصٰی کا منارہ اس لائق ہے کہ تمام میناروں سے اونچا ہو کیونکہ یہ منارہ مسیح موعود کے احقاق حق اور صَرفِ ہمت اور اتمامِ حجت اور اعلاء ملّت کی جسمانی طور پر تصویرہے پس جیسا کہ اسلامی سچائی مسیح موعود کے ہاتھ سے اعلیٰ درجہ کے ارتفاع تک پہنچ گئی ہے اور مسیح کی ہمت ثریّا سے ایمان گم گشتہ کو واپس لارہی ہے اسی کے مطابق یہ مینار بھی روحانی امور کی عظمت ظاہر کررہا ہے۔وہ آواز جو دنیا کے ہر چہار گوشہ میں پہنچائی جائے گی وہ روحانی طور پربڑے اونچے مینار کوچاہتی ہے۔قریبًا بیس برس ہوئے کہ مَیں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کا یہ کلام جومیری زبان پر جاری کیا گیا لکھا تھا۔یعنی یہ کہ اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قَرِیْبًا مِّنَ الْقَادِیَانِ۔وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ