مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 52

لئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے صلح کاری کا پیغام لایا ہے۔اب کیوں انسانوں کے خون کئے جائیں۔اگر کوئی سچ کا طالب ہے تو وہ خدا کے نشان دیکھے جو صدہا ظہور میں آئے اور آرہے ہیں۔اور اگر خدا کا طالب نہیں تو اُس کو چھوڑ دو اور اس کے قتل کی فکر میں مت ہو کیونکہ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب وہ آخری دن نزدیک ہے جس سے تمام نبی جو دنیا میں آئے ڈراتے رہے۔غرض یہ گھنٹہ جو وقت شناسی کے لئے لگایا جائے گا مسیح کے وقت کیلئے یاد دہانی ہے اور خود اس منارہ کے اندر ہی ایک حقیقت مخفی ہے اور وہ یہ کہ احادیث نبویہ میں متواتر آ چکا ہے کہ مسیح آنے والا صاحب المَنَارہ ہوگایعنی اُس کے زمانہ میں اسلامی سچائی بلندی کے انتہا تک پہنچ جائے گی جو اس منارہ کی مانند ہے جو نہایت اونچا ہو۔اوردین اسلام سب دینوں پر غالب آجائے گا اُسی کے مانند جیسا کہ کوئی شخص جب ایک بلند منار پر اذان دیتا ہے تو وہ آواز تمام آوازوں پر غالب آجاتی ہے۔سو مقدّر تھا کہ ایسا ہی مسیح کے دنوں میں ہوگا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۱؎۔یہ آیت مسیح موعود کے حق میں ہے اور اسلامی حجت کی وہ بلند آوازجس کے نیچے تمام آوازیں دب جائیں وہ ازل سے مسیح کے لئے خاص کی گئی ہے اور قدیم سے مسیح موعود کا قدم اس بلند مینار پر قرار دیا گیا ہے جس سے بڑھ کر اَور کوئی عمارت اونچی نہیں۔اِسی کی طرف طرف براہین احمدیہ کے اس الہام میں اشارہ ہے جو کتاب مذکورکے صفحہ ۵۲۲ میں درج ہے۔اور وہ یہ ہے:- ’’بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد‘‘۔ایسا ہی مسیح موعود کی مسجد بھی مسجد اقصٰی ہے کیونکہ وہ صدر اسلام سے دُور تر اور انتہائی زمانہ پر ہے۔اور ایک روایت میں خدا کے پاک نبی نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ مسیح موعود کا نزول مسجد اقصٰی کے شرقی منارہ کے قریب ہوگا۔۲؎ ۱؎ الصف:۱۰ ۲؎ حاشیہ۔بعض احادیث میں یہ پایا جاتا ہے کہ دمشق کے مشرقی طرف کوئی منارہ ہے جس کے قریب مسیح کا نزول ہوگا۔سو یہ حدیث ہمارے مطلب سے کچھ منافی نہیں ہے کیونکہ ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ ہمارا یہ گاؤں جس کا نام قادیاں ہے اور ہماری یہ مسجد جس کے قریب منارہ طیار ہوگا دمشق سے شرقی طرف ہی واقع