مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 45

ایک نوُر قادیان میں گرا جس کے فیضان سے اُن کی اولاد بے نصیب رہ گئی۔حافظ صاحب زندہ ہیں اُن سے پوچھ لیں۱؎۔پھر آپ کی شکایت کس قدر افسوس کے لایق ہے۔اور اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے کہ ہمیشہ مولوی عبد اللہ غزنوی کی نسبت میرا نیک ظن رہا ہے اور اگرچہ بعض حرکات ان کی مَیں نے ایسی بھی دیکھیں کہ اس حُسن ظن میں فرق ڈالنے والی تھیں تا ہم مَیں نے اُن کی طرف کچھ خیال نہ کیا اور ہمیشہ سمجھتا رہا کہ وہ ایک مسلمان اپنی فہم اور طاقت کے موافق پابند سنت تھا۔لیکن میں اس سے مجبور رہا کہ مَیں ان کو ایسے درجہ کا انسان خیال کرتا کہ جیسے خدا کے کامل بندے مامورین ہوتے ہیں۔اور مجھے خدا نے اپنی جماعت کے نیک بندوں کی نسبت وہ وعدے دیئے ہیں کہ جو لوگ اُن وعدوں کے موافق میری جماعت میں سے رُوحانی نشوونما پائیں گے اور پاک دل ہو کر خدا سے پاک تعلق جوڑ لیں گے مَیں اپنے ایمان سے کہتا ہوں کہ مَیں ان کو صد ہا درجہ مولوی عبد اللہ غزنوی سے بہتر سمجھوں گا اور سمجھتا ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ ان کو وہ نشان دکھلاتا ہے کہ جو مولوی عبد اللہ صاحب نے نہیں دیکھے اور اُن کو وہ معارف سمجھاتا ہے جن کی مولوی عبد اللہ کو کچھ بھی خبر نہیں تھی اور انہوں نے اپنی خوش قسمتی سے مسیح موعود کو پایا اور اُسے قبول کیا مگر مولوی عبد اللہ اس نعمت سے محروم گزر گئے۔آپ میری نسبت کیسا ہی بد گمان کریں اس کا فیصلہ تو خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔لیکن مَیں بار بار کہتا ہوں کہ مَیںوہی ہوں اور اس نور میں میرا پودہ لگایا گیا ہے جس نور کا وارث مہدی آخر زمان چاہیے تھا۔میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابو بکرؓ کے درجہ پر ہے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو بکرؓ کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی عطا کی تقسیم ہے۔اگر کوئی بخل سے مَر بھی جائے تو اس کو کیا پرواہ ہے۔اورجو شخص مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے ذکر سے مجھ سے ناراض ہوتا ہے اس کو ذرا خدا سے شرم کر کے اپنے نفس سے ہی سوال کرنا چاہیے کہ کیا یہ عبد اللہ اس مہدی و مسیح موعود کے درجہ پر ہو سکتاہے۔جس کو ۱؎ حاشیہ۔حافظ صاحب کے بھائی محمد یعقوب نے ایک مجلس میں یہ بھی کہا کہ عبد اللہ صاحب نے نام بھی لیا تھا کہ وہ نور مرزا غلام احمد پر نازل ہوا۔مگر مَیں ایسی روایتوں کا ذمہ وار نہیں۔جھوٹ سچ ان دونوں صاحبوں کی گردن