مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 42
مجموعه اشتہارات ۴۲ جلد سوم گے۔ سو جیسا کہ سمجھا جاتا ہے اگر محروم کے لفظ کے یہی معنے ہیں جو سمجھے گئے تو پھر قضا و قدر کے مقابل پر کیا پیش جاسکتی ہے۔ لیکن ہم خاص طور پر منشی الہی بخش صاحب اکونٹنٹ کو اس پیشگوئی کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ یہ ان کے مرشد کی پیشگوئی ہے جس کو وہ مسیح موعود سے بھی زیادہ عزت دیتے ہیں ۔ ہاں اگر اُن کو شک ہو تو حافظ محمد یوسف صاحب اور منشی محمد یعقوب سے قسمیہ دریافت کر لیں ۔ اس قدر کافی ہوگا کہ اگر وہ اس بیان کو تصدیق نہ کریں تو اتنا کہہ دیں کہ میرے پر خدا کی لعنت ہوا گر میں نے جھوٹ بولا ہے۔ اور نیز ذرہ شرم کر کے اس بات کو سوچیں کہ وہ میری نسبت کہتے ہیں کہ صد ہا الہامات سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص کافر اور بے ایمان اور دجال اور مفتری ہے اور ان کا مرشد عبد اللہ غزنوی یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص خدا کا نور ہے اور اس سے محروم خدا سے محروم ہے۔ اب بابوا الہی بخش صاحب بتلائیں کہ اُن کا کشف جھوٹا ہے یا اُن کے مر شد مولوی عبد اللہ کا ۔ اور اب ہم بہت انتظار کے بعد اس کے ذیل میں اپنا وہ خط درج کرتے ہیں جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا اور وہ یہ ہے ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از جانب مُتَوَكِّلُ عَلَى اللهِ الْأَحَدُ غلام احمد عافاه الله و اید ـ بخدمت مکرم با بوالہی بخش صاحب السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته بعد ہذا اس آل اعاجز کو اس وقت تک آں مکرم کے الہامات کی انتظار رہی ۔ مگر کچھ معلوم نہیں ہوا کہ توقف کا کیا باعث ہے۔ میں نے سراسر نیک نیتی سے جس کو خدائے کریم جانتا ہے یہ درخواست کی تھی تا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو ان متناقض الہامات میں کچھ فیصلہ ہو جائے کیونکہ الہامات کا باہمی تناقض اور اختلافات اسلام کو سخت ضرر پہنچاتا ہے اور اسلام کے مخالفوں کو ہنسی اور اعتراض کا موقع ملتا ہے اور اس طرح پر دین کا استخفاف ہوتا ہے۔ بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ ایک شخص