مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 41
کہ ایک نور پیدا ہو گا جس سے دنیا کے چاروں طرف روشنی ہو جائے گی اور وہ نور مرزا غلام احمد ہے جو قادیان میں رہتاہے۔یہ وہ گواہی ہے کہ جو منشی محمد یعقوب نے بمقام امرت سر محمد شاہ صاحب کی مسجد کے قریب ایک میدان میں کھڑے ہو کر قریباً دو سو آدمی کے رو برو دی تھی اور اب جو ۳۰؍اپریل ۱۹۰۰ء کو منشی صاحب مذکور کا اس جگہ خط پہنچا اس کی عبارت یہ ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔’’ میرے اشفاق فرمائے منشی ظفر احمد جی زَادَ لُطْفُہٗ۔السّلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗ آج ۲۲؍ اپریل ۱۹۰۰ء کو آپ کا عنایت نامہ صادر ہوا۔دریافت خیریت سے بہت خوشی ہوئی اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ بامن خود رکھ کر خواہش دلی پر پہنچا وے۔آپ میرے بیان کو بالکل بھول گئے۔مَیں نے تو اس صورت میں بیان کیا تھا کہ میرے گھر میں خواب دیکھا تھا کہ آسمان سے چاند ٹوٹا اور درمیان آسمان اور زمین کے آ کر اُس کے چار ٹکڑے ہو کر ہر چہار ٹکڑے ہر ایک گوشہ دنیا میں گرے اور گرتے ہوئے ہر چہار گوشہ میں بہت شور سے شعلہ زن ہوئے۔یہ خواب بندہ نے علی الصباح مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم سے بیان کر کے تعبیر دریافت کی۔فرمایا قریب ہے کہ کوئی شخص اللہ کی طرف سے پیدا ہو جس کے سبب سے دنیا کے ہرچہارگوشہ سے دین کی ترقی ہو۔اور ساتھ ہی ایسا بھی فرمایا کہ شاید مرزا قادیان سے ظہور ہو۔یعنی اس نور کا ظہور مرزا قادیانی کے وجود سے ہو۔فقط ‘‘ اب یہ دو گواہیاں ان دو انسانوں کی ہیں کہ اس وقت وہ اپنی ذلیل دُنیا کی مصلحت سے میرے مخالف ہیں۔یہ دونوں مولوی عبد اللہ صاحب کے رفیق اور مصاحب تھے۔ہر ایک طالب حق کو چاہیے کہ ان صاحبوں سے حلفاً دریافت کر لے منشی محمد یعقوب صاحب کا خط تو میں نے بجنسہٖ لکھ دیا ہے جو اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ان سے دریافت کر لو کہ ان کا یہ خط ہے یا نہیں۔اور حافظ محمد یوسف صاحب کی گواہی کا نہ ایک نہ دو بلکہ دو سو آدمی گواہ ہے وَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْـکَاذِبِیْنَ۔اب اگر مولوی عبد اللہ صاحب کی اولاد کے دل میں کچھ بھی خدا تعالیٰ کا خوف ہو تو اپنے باپ کی پیشگوئی کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔ہاں اس پیشگوئی میں یہ بھی ہے کہ وہ اس نور کو قبول نہیں کریں گے۔اور محروم رہ جائیں