مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 35
خاندان میں سے تھا کہ قریباً اٹھارہ سو برس اس بات کو گزر گئے جب یہ نبی اپنی قوم سے ظلم اُٹھا کر کشمیر میں آیا تھا اورکوہِ سلیمان پر عبادت کرتا رہا۔اور ایک شاگرد ساتھ تھا۔اب بتلائو کہ اس تحقیق میں کونسی کسر باقی رہ گئی۔سچائی کو قبول نہ کرنا یہ اور بات ہے کہ لیکن کچھ شک نہیں کہ بھانڈا پھوٹ گیا اور یوزآسف کے نام پر کوئی تعجب نہیں ہے کیونکہ یہ نام یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔آسف بھی حضرت مسیح کا عبرانی میں ایک نام ہے جس کا ذکر انجیل میں بھی ہے اور اس کے معنے ہیں متفرق قوموں کو اکٹھا کرنے والا۔اب بخوف اندیشہ طول اسی پر مَیں ختم کرتا ہوں اور مَیں تمام لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اب آسمان کے نیچے اعلیٰ اور اکمل طور پر زندہ رسُول صرف ایک ہے یعنی محمد مصطفیٰ صلے اللہ علیہ وسلم۔اسی ثبوت کے لئے خدا نے مجھے مسیح کر کے بھیجا ہے جس کو شک ہو وہ آرام اورآہستگی سے مجھ سے یہ اعلیٰ زندگی ثابت کرالے۔اگر میں نہ آیا ہوتا تو کچھ عذر بھی تھا مگر اب کسی کے لئے عذر کی جگہ نہیں کیونکہ خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا مَیں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن ہے اور زندہ دین اسلام ہے اور زندہ رسول محمد مصطفیٰ صلے اللہ علیہ وسلم ہے۔دیکھو مَیں آسمان اور زمین کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ یہ باتیں سچ ہیں اور خدا وہی ایک خدا ہے جو کلمہ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ میں پیش کیا گیا ہے۔اور زندہ رسول وہی ایک رسول ہے جس کے قدم پر نئے سرے سے دنیا زندہ ہو رہی ہے۔نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔برکات ظہور میں آ رہے ہیں غیب کے چشمے کھل رہے ہیں۔پس مبارک وہ جو اپنے تئیں تاریکی سے نکال لے۔وَالسَّـلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی المشتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــھر مرزا غلام احمد از قادیان ۲۵ ؍مئی ۱۹۰۰ء مطابق ۲۵ محرم الحرام ۱۳۱۸ہجری روز جمعہ ( یہ اشتہار۲۰×۲۶ ۸ کے ۶ صفحہ پر ہے ) رفاہ عام سٹیم پریس لاہور (تبلیغ رسالت جلد۹ صفحہ ۱۱ تا ۱۹)