مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 462
کاذب ٹھہراتا ہے۔ہاں اگر کسی کی اولاد مباہلہ کے وقت حاضر ہو کر خود مباہلہ سے حصّہ لے اور افترا کے حامی یا تکذیب کے حامی ہو جاویں جیسا کہ قرآن شریف سے سمجھا جاتا ہے تب وہ کاذب ہونے کی حالت میں عذاب میں بھی شریک ہوں گے جیسا کہ وہ مقابلہ میں شریک ہو گئے۔ورنہ بموجب حکم آیت ۔۱؎خدا ایک کے گناہ کے لئے دوسرے کو ہلاک نہیںکرتا۔میرا لڑکا مبارک احمد نا بالغ تھا اور ابھی نو برس کی عمر کو نہیں پہنچا تھا جب وہ فوت ہو گیا۔اور خدا نے اس کی وفات سے کئی برس پہلے دو مرتبہ اس کی نسبت خبر دی تھی کہ ابھی وہ بالغ نہیں ہو گا جو فوت ہو جائے گا۔اور یہ بھی فرمایا تھا کہ دشمن اس دن خوش ہو گا اور اپنا وار کرے گا مگر ساتھ ہی دشمن کے بدانجام کی بھی خبر دی تھی کہ آخر کار وہ غضب الٰہی کے نیچے آئے گا اور میری نسبت یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ دن تلخ زندگی کے ہوں گے اور ساتھ اس کے میرے دل کی حالت کو ان الفاظ سے ظاہر کیا تھا کہ اِنِّیْ مَعَ اﷲِ فِیْ کُلِّ حَالٍ یعنی مَیں ہر ایک حال میں خدا کے ساتھ ہوں اور جو اس کے رضا ہے وہی میر ی رضا ہے۔اور یہ بھی میرے گھر کے لوگوں کو خدا نے مخاطب کر کے مجھے یہ الہام کیا تھا کہ ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر۔اور یہ بھی ان کی نسبت الہام تھا کہ اِنَّمَا یُرِیْدُ اﷲُ لِیُذْھِبَ عَنْـکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔یعنی اے اہل بیت خدا تمہیں ایک امتحان کے ذریعہ سے پاک کرنا چاہتا ہے جیسا کہ حق ہے پاک کرنے کا۔اس الہام میں بھی اسی مصیبت کی طرف اشارہ تھا۔اور علاوہ اس کے اور کئی الہام تھے جن میں بصراحت اس لڑکے کے مرنے کی خبر دی گئی تھی۔اور صرف یہی نہیں تھا کہ زبانی اپنی جماعت کو یہ پیشگوئیاں بتلائی گئی تھیں بلکہ یہ پیشگوئیاں اس واقعہ سے کئی سال پہلے اخبار بدر اور الحکم میں شائع کر دی گئی تھیں جس کا خلاصہ مضمون یہی تھا کہ مبارک احمد قبل اس کے کہ جو بلوغ کی عمر کو پہنچے فوت ہو جائے گا اور باوجود اس کے کہ میرے کئی اَور لڑکے تھے جو اس کے حقیقی بھائی تھے مگر مَیں نے خدا سے الہام پاکر صریح طور پر پیشگوئی میں شائع کیا تھا کہ قبل از بلوغ وفات پانے والا مبارک احمد ہے۔اور صاف اور کھلے لفظوںمیں لکھا تھا کہ مبارک احمد نابالغ ہونے کی حالت میں ہی فوت ہو جائے گا۔