مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 444
یُرضیک، رحمۃً منّا، وکان أمرًا مقضیّا۔وأُوحِیَ إلیّ فی ۲۰؍ مارچ سنۃ ۱۹۰۶ء : المراد حاصل۔وأُوحِیَ إلیّ فی ۹؍ أپریل سنۃ ۱۹۰۶ء: نصرٌ من اللّٰہ وفتح مبین۔ولا یُرَدّ بأسہ عن قومٍ یعرضون۔وأوحی إلیّ فی ۱۲؍أپریل سنۃ ۱۹۰۶ء: أراد اللّٰہ أن یبعثک مقامًا محمودًا۔یعنی مقامَ عزّۃٍ وفتح تُحمد فیہ۔وأُوحِیَ فی الہندیۃ (ترجمۃ): أُرِیْ ما ینسخ طاقۃَ الدیر یعنی أُرِی آیۃً تکسر قوۃ دیر الیسوعیین۔وأُوحِیَ فی الہندیۃ فی ۷؍جون سنۃ ۱۹۰۶ء ( ترجمۃ): تظہر الآیتان۔إنّی أُریک ما یُرضیک۔وأُوحِیَ فی ۲۰؍جنوری سنۃ ۱۹۰۶ء: وقالوا لستَ مرسلا۔قل کفی باللّٰہ شہیدًا بینی وبینکم، ومَنْ عندہ علمُ الکتاب۔وأُوحِی فی ۱۰؍جولائی سنۃ ۱۹۰۶ء: (ترجمۃ الہندی) انظُرْ۔۔إنی أُمطر لک من السماء ، وأُنبت من الأرض، وأما أعداؤک فیؤخذون۔وأُوحِیَ فی ۲۳؍ أگست سنۃ ۱۹۰۶ء : (ترجمۃ الہندی): ستظہر آیۃ بقیہ ترجمہ۔اور یقینا اللہ ان لوگو ں کے ساتھ ہے جو متقی اور نیکوکار ہیں۔‘‘اور۱۲ جون ۱۹۰۴ءکو مجھے یہ وحی کی گئی ’’خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔تیر ے جیسا موتی ضائع نہیں ہو گا۔تجھ پر گھاٹے کا دن نہیں آئے گا۔‘‘۱ور ۱۷؍ دسمبر ۱۹۰۵ء کومجھے یہ وحی کی گئی ’’تیر ا رب کہتا ہے کہ ایک امر آسمان سے اترے گا جس سے تو خوش ہو جائے گا۔یہ ہماری طرف سے رحمت ہے اور یہ فیصلہ شدہ بات ہے جو ابتدا سے مقدر تھی۔اور۲۰مارچ ۱۹۰۶ءکومجھے وحی کی گئی۔’’اَلْمُرَادُ حَاصِلٌ‘‘ یعنی مراد بَر آنے والی ہے۔اور ۹؍اپریل۱۹۰۶ءکومجھے یہ وحی کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور فتح مبین آیا چاہتی ہے اور اعراض کرنے والے اس کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔اور ۱۲؍ اپریل ۱۹۰۶ کو مجھے یہ وحی کی گئی۔’’اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ تجھے مقام محمود پر مبعو ث کرے یعنی ایسی فتح کے مقام پر جہاں تیری تعریف کی جائے گی۔اور اردو میں وحی ہوئی کہ میں کلیسیا کی طاقت کو مٹتے ہوئے دیکھتا ہوں یعنی میں وہ نشان دیکھ رہا ہوں جو عیسائیوں کے کلیسیا کی قوت کو توڑ دے گا۔۷جون ۱۹۰۶ء کو اردو میں وحی ہوئی’’دو نشان ظاہر ہوں گے۔میں تجھے وہ دکھائوں گا جو تجھے راضی کردے گا۔۲۰؍جنوری ۱۹۰۶ کو یہ الہام ہوا۔’’اور کہیں گے کہ تو خدا کافر ستادہ نہیں۔کہہ میری سچائی پر اللہ گواہی دے رہا ہے۔اور وہ لوگ گواہی دیتے ہیں جو