مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 440
مجموعه اشتہارات ۴۴۰ جلد سوم وطفى مصباحه، ورفعت صياحه، ونزعت عنه البساتين وعيونها،والخيل ومتونها، وضاق عليه سهل الأرض وحزونها، وعادته الأودية وبطونها، وسُلبت منه الخزائن التي ملك مفاتحها، ورأى حروب العدا ومضائقها ۔ ثم بعد كل خزى وذلة فلج من الرأس إلى القدم، ليرحله الفالج من الحياة الخبيث إلى العدم۔ وكان يُنقل من مكان إلى مكان فوق ركاب الناس، وكان إذا أراد التبرز يحتاج إلى الحقنة من أيدى الأناس ۔ ثم لحق به الجنون، فغلب عليه الهذيان في الكلمات، والاضطراب في الحركات والسكنات، وكان ذالك آخر المخزيات۔ ثم أدركه الموت بأنواع الحسرات، وكان موته في تاسع من مارج سنة ٩٠٧ ا ء، وما كانت له بقیہ ترجمہ ۔ دیا۔ اور زمانے نے تمام قسم کی ذلتیں اس کی ذات میں مکمل کر دیں۔ جس سے وہ خاک میں دبی بوسیدہ ہڈی کی طرح ہو گیا یا اس مارگزیدہ شخص کی طرح جو تباہی کا نشانہ بن گیا ہو۔ تمام تر وجاہت مذکورہ کے باوجود وہ ایسا اجنبی بن گیا جو معروف نہ ہو۔ اس کے جتنے بھی پیروکار تھے وہ تتر بتر ہو گئے ۔ اور اس کے ہاتھ میں زر نقد اور جا گیر و جائیداد میں سے کچھ بھی باقی نہ رہا۔ اور وہ ایک بد حال محتاج اور ذلیل حقیر کی طرح ہو گیا۔ اس کے حوض اور اس کے باغات اور اس کا مکان منحوس ہو گیا اور اس کا چراغ گل ہو گیا اور اس کی چیخ و پکار بلند ہوئی ۔ باغات اور ان کے چشمے اور گھوڑے اور ان کی سواری اس سے چھن گئے ۔ اور نرم اور سنگلاخ زمین اس پر تنگ ہو گئی۔ اور وادیاں اور گھاٹیاں اس کی دشمن ہوگئیں، اور وہ خزانے اس سے چھین لئے گئے جن کی چابیوں کا وہ مالک تھا۔ اس نے دشمنوں کی طرف سے لڑائی جھگڑے اور ان کی ایذا رسانیاں دیکھیں اور پھر تمام تر ذلت اور رسوائی کے بعد اسے سر سے پاؤں تک فالج ہو گیا تا کہ یہ فالج اسے خبیث زندگی سے عدم کی طرف لے جائے ۔ اور وہ لوگوں کی گردنوں پر بٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا اور جب اسے بول و براز کی حاجت ہوتی تو وہ لوگوں کے ہاتھوں حقنے کا محتاج ہوتا ۔ پھر اسے جنون لاحق ہو گیا ۔ جس کے نتیجہ میں اس کی گفتگو ہذیان اور حرکات و سکنات میں بے چینی غالب آگئی اور یہ اس کی انتہائی رسوائی تھی ۔ پھر طرح طرح کی حسرتوں کے ساتھ اسے موت نے آن لیا اور اس کی موت بتاریخ ۱۹ مارچ ۱۹۰۷ء کو ہوئی ۔ اور