مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 437
وإنّہم من أعزّۃ أہل أمریکۃ ومن العمائد۔ثم مع ذالک إنّی جرّبتُ أخلاقہ عند مسألۃ المباہلۃ، فإذا بلغہ مکتوبی غضب غضبًا شدیدًا واشتعل من النَّخْوۃ، وأری أنیابَ ذیاب الأجمۃِ، وقال: ما أری ہٰذا الرجلَ إلَّا کبعوضۃ بل دونہا، وما دعتنی البعوضۃ بل دعت منونہا۔وأشاع ہٰذا القول فی جریدتہ، وکفاک ہٰذا لرؤیۃ کبرہ ونخوتہ، فہٰذا الکبر ہو الذی حثّنی علی الدعاء والابتہال، متوکّلا علی اللّٰہ ذی العزّۃ والجلال۔وکان ہٰذا الرجل صاحب الدولۃ العظیمۃ قبل أن أدعوہ إلی المباہلۃ، وکنت دعوت علیہ لیُہلکہ اللّٰہ بالذلّۃ والمَتربۃ والحَسرۃ۔وإنّہ کان قبل دعائی ذاالسطوۃ السلطانیۃ، والقوّۃ والشوکۃ، والشہرۃ الجلیلۃ، التی أحاطت الأرض بقیہ ترجمہ۔یہ بات اس اخبار کے مدیر نے کہی جس نے ڈوئی کے اخلاق کا پورا پورا کھوج لگا یا ہے۔او ر اس ڈوئی کی زبان سے جو نکلتا ہے اس کا اس نے تجربہ کیا اور مزہ چکھا ہے۔ایسی ہی بات دوسرے بہت سے اخبارا ت کے مدیروں نے بھی کہی ہے۔یہ سب امریکہ کے معززین و عمائدین میں سے ہیں پھر علاوہ ازیں مسئلہ مباہلہ کے وقت میں نے خود اس کے اخلاق کا تجزیہ کیا ہے۔اور جب اسے یہ میرا خط ملا تو وہ سخت غضبناک ہو ا اور تکبر و نخوت سے مشتعل ہو گیا اور جنگل کے بھیڑیوں کی طرح کچلیاں دکھائیں اور کہا کہ میں اس شخص کومچھر بلکہ مچھر سے بھی کمتر سمجھتا ہوں اور مجھے اس مچھر نے دعوت نہیں دی بلکہ اپنی موت کو بلایا ہے۔اور اس نے یہ بات اپنے اخبار میں شائع کی۔اور تمہارے لئے یہ بات اس کے کبر و نخوت کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے۔یہ اس کا کبر ہی تھا جس نے مجھے اللہ عزّوجلّ پر توکل کرتے ہوئے دعا اور ابتہال پر آمادہ کیا۔میری دعوت مباہلہ سے قبل یہ شخص بڑی دولت کا مالک تھا۔میں اس کے خلاف یہ دعا کرتا تھا کہ اللہ اسے ذلت ،خواری اور حسرت کے ساتھ ہلاک کرے۔میری اس دعا سے پہلے اسے شاہانہ سطوت، قوت و شوکت اور ایسی شہرت جلیلہ حاصل تھی جس نے دائرے کی طرح ساری زمین کو اپنے احاطہ میں لیا