مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 431
۱شکاگو إنٹرپریٹر ۸جون ۱۹۰۳إن المیرزا غلام أحمد رجلٌ من الفنجاب، وہو یدعو ’’ڈوئی‘‘ للمباہلۃ۔أیُظَنُّ أنہ یخرج فی ہذا المیدان؟ وإن المیرزا یکتب أن ’’ڈوئی‘‘ مفتری کذّابٌ فی دعوی النبوّۃ، وإنی أدعو اللّٰہَ أن یُہلکہ ویستأصلہ کل الاستیصال۔ویقول: إنی علی الحق، وإن ڈوئی علی الباطل، فاللّٰہ یحکم بیننا بأنہ یُہلک الکاذبَ، ویستأصلہ فی حین حیاۃ الصادق۔وإن المیرزا غلام أحمد یقول: إنی أنا المسیح الموعود وإن الحق فی الإسلام۔۲ٹیلیگراف ۵ جولائی ۱۹۰۳ءمطابقٌ بما سبق بأدنٰی تغیُّر الألفاظ۔۳رگوناٹ سان فرانسسکو یکم دسمبر ۱۹۰۲ءمطابقٌ بما سبق بأدنی تغیُّر الألفاظ، ومع ذالک قال إن ہٰذا الطریق طریق معقول ومبنی علی الإنصاف۔ولا شک أن الرجل الذی یُستجاب دعاؤہ فہو علی الحق من غیر شبہۃٍ۔ شکا گو انٹر پریٹر ۸ جون ۱۹۰۳ء مرزا غلام احمد پنجاب کے رہنے والے ہیں اور وہ ڈوئی کو دعوت مباہلہ دیتے ہیں۔کیا خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ (ڈوئی ) اس میدان میں نکلے گا۔مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ڈوئی دعوائے نبوت میں مفتری اور کذاب ہے۔اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے ہلاک کرے اور اس کی پوری طرح بیخ کنی کرے۔اور وہ (مرزا صاحب) کہتے ہیں کہ میں حق پر ہوں اور ڈوئی باطل پر ہے۔اس لئے اللہ ہمارے درمیان یوں فیصلہ کرے گا کہ وہ کاذب کو ہلاک کرے گا اور صادق کی زندگی میں ہی اس کی بیخ کنی کر ے گا۔اور مرزا غلام احمد کہتے ہیں کہ میںہی مسیح موعود ہوں اور حق صرف اسلام میں ہے۔ٹیلیگراف ۵ جولائی ۱۹۰۳ءالفاظ کے معمولی تغیر سے مضمون مذکورہ بالا کے مطابق۔ارگوناٹ۔سان فرانسسکو یکم دسمبر ۱۹۰۲ءالفاظ کی معمولی تبدیلی سے مضمون مذکورہ بالا کے مطابق۔مزید براں ایڈیٹر کہتا ہے کہ یہ طریق فیصلہ معقول طریق اور مبنی بر انصاف ہے۔اور یقینا جس شخص کی دعا قبول ہو گی وہی بلا شبہ حق پر ہو گا۔