مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 29
۲۲۴ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ جناب بشپ صاحب کے لیکچر ’’ زندہ رسُول‘‘ پرکچھ ضروری بیان چونکہ مسلمانوں کو بھی اس تقریرکے بعد میں بات کرنے کا موقعہ دیا گیا ہے۔اس لئے مختصراً مَیں کچھ بیان کرتا ہوں۔بشپ صاحب کی طرف سے یہ دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السّلام زندہ اپنے خاکی جسم کی ساتھ آسما ن کی طرف چلے گئے تھے مگرافسوس کی ہم کسی طرح اس دعویٰ کو قبول نہیں کر سکتے۔نہ عقل کے رو سے نہ انجیل کے رو سے۔اور نہ قرآن شریف کے رو سے۔عقل کے رو سے اس لئے کہ حال اور گذشتہ زمانہ کے تجارب ثابت کر تے ہیں کہ انسان سطح زمین سے چھ میل تک بھی اوپر کی طرف صعود کر کے زندہ نہیں رہ سکتا اور ثابت نہیں کیا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السّلام کے وجودکی کوئی ایسی خاص بناوٹ تھی جس سے کرہ ز مہریرکی سردی ان کو ہلاک نہیں کر سکتی تھی بلکہ بر خلاف اس کے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ تمام انسانوں کی طرح وہ کھاتے پیتے اور بھوکھ اور پیاس سے متاثر ہوتے تھے یہ تو عقل کے رو سے ہم نے بیان کیا اور انجیل کے رو سے اس لئے یہ دعوٰی قبول کے لائق نہیںکہ اوّل تو انجیلیں چالیس سے بھی کچھ زیادہ ہیں جن میں سے حضرات عیسائی صاحبوں کی رائے میںچار صحیح اور باقی جعلی ہیں۔لیکن یہ محض ایک رائے ہے جس کی تائید میںکافی