مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 414

کہ ’’اگر مَیں سچا نبی نہیں ہوں تو پھر روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو خدا کا نبی ہو۔‘‘ علاوہ اس کے وہ سخت مُشرک تھا اور کہتا تھا کہ مجھ کو الہام ہو چکا ہے کہ پچیس برس تک یسوع مسیح آسمان سے اُتر آئے گا اور حضرت عیسیٰ کو درحقیقت خدا جانتا تھا اور ساتھ اس کے میرے دل کو دُکھ دینے والی ایک یہ بات تھی جیسا کہ مَیں لکھ چکا ہوں کہ وہ نہایت درجہ پر ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا دشمن تھا اور مَیں اس کا پرچہ اخبار لیؤز آف ہیلنگ لیتا تھا اوراس کی بدزبانی پر ہمیشہ مجھے اطلاع ملتی تھی۔جب اس کی شوخی انتہا تک پہنچی تو میں نے انگریزی میں ایک چٹھی اس کی طرف روانہ کی اور مباہلہ کے لئے اس سے درخواست کی تا خدا ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس کو سچے کی زندگی میں ہلاک کرے۔یہ درخواست دو مرتبہ یعنی ۱۹۰۲ء اور پھر ۱۹۰۳ء میں اس کی طرف بھیجی گئی تھی اور امریکہ کے چند نامی اخباروں میں بھی شائع کی گئی تھی جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں۔۱؎ (۱)شکاگو انٹر پریٹر اخبار ۲۸؍ جون ۱۹۰۳ء عنوان ’’کیا ڈوئی اس مقابلہ میں نکلے گا ‘‘ دونوں تصویریں پہلو بہ پہلو دے کر لکھتا تھا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ڈوئی مفتری ہے اور مَیں دعا کرنے والا ہوں کہ وہ اسے اپنی زندگی میں نیست و نابود کر دے اور پھر کہتے ہیں کہ جھوٹے اور سچے میں فیصلہ کا یہ طریق ہے کہ خدا سے دعا کی جاوے کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاوے۔(۲)ٹیلیگراف ۵؍ جولائی ۱۹۰۳ء مرزا غلام احمد صاحب پنجاب سے ڈوئی کو چیلنج بھیجتے ہیں کہ اے وہ شخص جو مدعی نبوت ہے آ اور میرے ساتھ مباہلہ کر۔ہمارا مقابلہ دعا سے ہو گا او رہم دونوں خدا تعالیٰ سے دُعا کریں گے کہ ہم میں سے جو شخص کذّاب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔(۳)ارگوناٹ سان فرانسسکو یکم دسمبر ۱۹+۰۳ء عنوان ’’انگریزی اور عربی یعنی (عیسائیت اور اسلام) کا مقابلہ دعا ‘‘ مرزا صاحب کے مضمون کا خلاصہ جو ڈوئی کو لکھا ہے یہ ہے کہ تم ایک جماعت کے لیڈر ہو اور میرے بھی بہت سے پیرو ہیں۔پس اس بات کا فیصلہ کہ خدا کی طرف سے کون ہے ہم میں اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے خدا سے دعا کرے اور جس کی دعا قبول ہو وہ سچے خدا کی طرف سے سمجھا جاوے۔دعا یہ ہو گی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے خدا اسے پہلے ہلاک کرے۔یقینا یہ ایک معقول اور منصفانہ تجویز ہے۔