مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 377
غرض صرف یہی نہیں کہ مَیں ظاہرکروں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔یہ تو مسلمانوں کے دلوں پر سے ایک روک کا اُٹھانا اور سچا واقعہ ان پر ظاہر کرنا ہے بلکہ میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ تا مسلمان خالص توحید پر قائم ہو جائیں اور ان کو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے اور ان کی نمازیں اور عبادتیں ذوق اور احسان سے ظاہر ہوں اور اُن کے اندر سے، ایک قسم کا گند نکل جائے۔اور اگرمخالف سمجھتے تو عقائد کے بارے میں مجھ میں اور اُن میں کچھ بڑا اختلاف نہ تھامثلاً وہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام مع جسم آسمان پر اٹھائے گئے۔سو میں بھی قائل ہوں کہ جیساکہ آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ ۱؎ کا منشا ہے۔بے شک حضرت عیسیٰ بعد وفات مع جسم آسمان پر اُٹھائے گئے صرف فرق یہ ہے کہ وہ جسم عنصری نہ تھا بلکہ ایک نورانی جسم تھا جو اُن کو اسی طرح خدا کی طرف سے ملا جیساآدم اور ابراہیم اور موسیٰ اور دائود اور یحییٰ اور ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء کو ملا تھا۔ایسا ہی ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ضرور دُنیا میں دوبارہ آنے والے تھے۔جیسا کہ آ گئے۔صرف فرق یہ ہے کہ جیسا کہ قدیم سے سنت اللہ ہے ان کا آنا صرف بروزی طور پر ہوا جیسا کہ الیاس نبی دوبارہ دنیا میں بروزی طور پر آیا تھا۔پس سوچنا چاہیے کہ اس قلیل اختلاف کی وجہ سے جو ضرور ہونا چاہیے تھا اس قدر شور مچانا کس قدر تقویٰ سے دُور ہے۔آخر جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے حَکَم بن کر آیا، ضرور تھا کہ جیسا کہ لفظ حَکَم کا مفہوم ہے کچھ غلطیاں اس قوم کی ظاہر کرتا جن کی طرف وہ بھیجا گیا۔ورنہ اس کا حَکمَ کہلا ناباطل ہو گا۔اب زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔مَیں اپنے مخالفوں کو صرف یہ کہہ کر کہ اِعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۲؎ اس اعلان کو ختم کرتا ہوں۔وَالسَّـلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی المعلن خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی ۸؍اکتوبر ۱۹۰۵ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان (یہ اشتہار ۲۰×۸۲۶ کے چار صفحہ پر ہے ) (تبلیغ رسالت جلد۱۰ صفحہ ۱۰۲ تا ۱۰۵)