مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 352
یہ اشتہار جہاں جہاں پہنچے ہماری جماعت کے صاحب مقدرت لوگ اسے اپنی طرف سے اور چھپوا کر دنیا میں شائع کرنے کی کوشش کریں۔حضرت نے یہ تاکیدی حکم دیا ہے۔(عبد الکریم) ------------------------------ دنیا میں ایک نذیرآیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدااسے قبول کرے گا اور بڑے زورآور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اَ لْاِ نْذَار (غور سے پڑھو کہ یہ خدائے تعالیٰ کی وحی ہے) آج رات تین بجے کے قریب خدا ئے تعالیٰ کی پاک وحی مجھ پر نازل ہوئی جو ذیل میں لکھی جاتی ہے۔تازہ نشان۔تازہ نشان کا دھکّہ۔زَلْزَلَۃُ السَّاعَۃِ۔قُوْااَنْفُسَکُمْ۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْاَبْرَارِ۔دَنٰی مِنْکَ الْفَضْلُ جَآئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ۔ترجمہ مع شرح۔یعنی خدا ایک تازہ نشان دکھائے گا۔مخلوق کو اس نشان کا ایک دھکہ لگے گا۔وہ قیامت کا زلزلہ ہو گا( مجھے علم نہیں دیا گیا کہ زلزلہ سے مراد زلزلہ ہے یا کوئی اور شدید آفت ہے جو دنیا پر آئے گی جس کو قیامت کہہ سکیں گے اور مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ کب آئے گا اور مجھے علم نہیں کہ وہ چند دن یا چند ہفتون تک ظاہر ہو گا یا خدائے تعالیٰ اس کو چند مہینوں یا چند سال کے بعد ظاہر فرمائے گا بہر حال وہ حادثہ زلزلہ ہو یا کچھ اور ہو۔قریب ہو یا بعید ہو، پہلے سے بہت خطرناک ہے۔سخت خطرناک ہے۔اگر ہمدردی ٔ مخلوق مجھے مجبور نہ کرتی تو میں بیان نہ کرتا۔وہ پہلی پیشگوئی جو مَیں نے الحکم اور البدر میں حادثہ سے پانچ ماہ پہلے ملک میں شائع کر کے خبر دی تھی کہ مُلک میں بڑی تباہی پیدا ہو گی اور شوُر ِقیامت برپا ہو گا اور یک دفعہ موتا موتی ظہور میں آ جائے گی۔دیکھو وہ نشان کیسا پورا ہوا۔اور جیسا کہ مَیں نے ابھی لکھا ہے یہ پیشگوئی مذکورہ اخبار الحکم اور البدر میں اس زلزلہ سے قریباً پانچ ماہ پہلے شائع کر دی گئی تھی اور پیشگوئی مذکورہ یہ ہے۔عَفَتِ الدِّیَارُ مَحَلُّھَا وَ مُقَامُھَا۔یعنی بہت سی مخلوق کو مٹا دینے والی تباہی آئے گی جس سے مکانات بے نشان ہو جائیں گے ان مکانوں اور گھروں کا پتہ نہ ملے گا کہ کہاں تھے۔دیکھو! کیسی صفائی سے یہ خدا کی باتیں پوری ہو گئیں۔اگر تم عربی دان نہیں ہو تو عربی دانوں سے پوچھ لو کہ اس وحی کے کیا معنے ہیں؟ کہ عَفَتِ الدِّیَارُ مَحَلُّھَا وَ مُقَامُھَا۔اے عزیزو! اس کے یہی معنے ہیں