مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 351
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ (۱) بتر سید از خدائے بے نیاز و سخت قہارے نہ پندارم کہ بد بیند خدا ترسے نکو کارے ۱؎ (۲) مرا باور نمی آید کہ رسوا گردد آں مردے کہ بتر سد ازاں یارے کہ غفاّرست و ستاّرے (۳) گر آں چیزے کہ می بینم عزیزاں نیز دید ندے ز دُنیا توبہ کردندے بچشم زار و خونبارے (۴) بہ تشویش قیامت ماند ایں تشویش گر بینی علاجے نیست بہر دفع آں جز حسن کردارے (۵) نہ شاید تافتن سرزاں جناب عزت و غیرت کہ گر خواہد کشد دریک دمے چوں کرم بیکارے (۶) من از ہمدردیت گفتم تو خود ہم فکر کن بارے خرد از بہر ایں روز است اے دانا ئو ہشیارے یہ اشتہار جہاں جہاں پہنچے ہماری جماعت کے صاحب مقدرت لوگ اسے اپنی طرف سے اور چھپوا کر دنیا میں شائع کرنے کی کوشش کریں۔حضرت نے یہ تاکیدی حکم دیا ہے۔(عبد الکریم) ۱؎ ترجمہ اشعار۔(۱) لوگو! بے نیاز اور قہار خدا سے ڈرو میں نہیں سمجھتا کہ متقی اور نیک آدمی کبھی نقصان اٹھاتا ہو۔(۲) مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ شخص کبھی رسوا ہوا ہو جو اس یار سے ڈرتا ہے جو غفار و ستاّر ہے۔(۳)اگر وہ چیز جسے میں دیکھ رہا ہوں دوست بھی دیکھتے تو حصول دنیا سے رورو کر توبہ کرتے۔(۴) یہ مصیبت قیامت کی مانند ہے اگر تو غور کرے اور اس کے دور کرنے کا علاج سوائے نیک اعمال کے اور کچھ نہیں۔(۵) اس بار گاہ عالی سے سرکشی نہیں کرنی چاہیے اگر وہ چاہے تو ایک دم میں نکمے کیڑے کی طرح تجھے فنا کر دے۔(۶) میں نے ہمدردی سے یہ بات کہی ہے اب تو خود غور کرلے اے سمجھ دار انسان عقل اسی دن کے لئے ہوا کرتی ہے۔