مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 337

بہتان کا مرتکب ہے۔یہ الفاظ دراصل وہی تھے جن کا مصدا ق وہ خود اپنے آپ کو سراج الاخبار میں کنایتاً و صراحتاًظاہر کر چکا تھا اور مان چکا تھا کہ مَیں نے دھوکا دیا۔دغا دیا۔خلاف واقعہ خطوط لکھائے۔جعلی دستخط بنوائے اورجھوٹ کی تعلیم دی وغیرہ وغیرہ۔مناسب تھا کہ یہ شخص خاموش رہتا مگر اُس نے ایسا نہ کیا اور میرے پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش کر دی۔اگر مولوی کرم دین بجا ئے ان تہمتوں اور الزاموں کے جو اس نے اپنے مضمون مندرجہ سراج الاخبار میں میرے پر لگائے اور خلاف واقعہ واقعات مجھ پر چسپاں کر کے مجھے جعلساز اور دھوکہ باز ٹھہرایا۔میرے پر تلوار چلا کر کوئی عضو میرا کاٹ دیتا تو مجھے اس خدا کی قسم ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے کہ مَیں پھر بھی اُسے معاف کر دیتا اور کسی کے کہنے کی مجھے حاجت نہ ہوتی کہ مَیں اس سے صُلح کر لوں اور اس کا گناہ بخش دوں۔لیکن اے ناظرین جو لوگ مصلح قوم بن کر خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں وہی اُن مشکلات کو جانتے ہیں کہ ایسے بیجا الزام جو پبلک پر بُرا اثر ڈالنے والے ہیں وہ ان کے نزدیک تصفیہ کے لائق ہوتے ہیں اور جب تک وہ الزام ان کے سر پر سے پبلک کی نظر میں معدوم نہ ہو لیں تب تک وہ اس بات کو پسند نہیں کر سکتے کہ ایک گول مول مصالحت کر کے وہ داغ ہمیشہ کے لئے اپنے سر پر رکھیں یوسف جو ایک نبی تھااس پر ایک جھوٹا الزام اقدام زنا لگا کر اس کو قید کیا گیا اور پھر مدّت کے بعد معافی دی گئی تو اس نے اس معافی کو قبول نہ کیا حالانکہ نائب السلطنت کا عہدہ بھی ملتا تھا بلکہ صاف کہا کہ جب تک زنا کی تہمت سے میری بریّت نہ ہو مَیں زندان سے باہر قدم رکھنا نہیں چاہتا۔اسی طرح اگر ایک دنیادار پر بھی ایک جھوٹا الزام دغا یا خیانت ِ مجرمانہ کا لگایا جاوے تو گول مول مصالحت پر راضی نہیں ہوتا۔لیکن بعض خیر خواہان ِقوم نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین میں مصالحت ہوجاوے یہاں تک کہ اس ضلع اور قسمت کے بعض نیک دل اور دور اندیش اعلیٰ افسران اور حکّام نے بھی اپنی رضا مندی اس پر ظاہر کی کہ مَیں اس مستغیث سے صلح کرلوں۔خود صاحب مجسٹریٹ نے جن کی عدالت میں یہ مقدمہ ہے اپنی شریفانہ عادت اور نیک نیتی سے صلح پر پسندیدگی ظاہر فرمائی۔