مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 338
اس موقعہ پر منشی غلام حیدر خان صاحب تحصیلدار پنڈدادنخان نے بھی جو بطور شہادت اس مقدمہ میں تشریف لائے تھے مصالحت کے لئے کوشش کی۔ان تمام بزرگوں کی ترغیب اور دلی خواہش نے مجھے اس غورو فکر میں ڈالا کہ اب صلح کیونکر ہو۔آخر مَیں نے یہ جواب دیا کہ اگر مستغیث یعنی مولوی کرم الدین خدا تعالیٰ سے ڈر کر عدالت میں یہ اقرار کردے کہ خطوط محولہ مقدمہ اور مضمون سراج الاخبار مورخہ ۶؍اکتوبر ۱۹۰۲ء و تیرہ اکتوبر ۱۹۰۲ء اسی کے ہیں اور ہماری جعلسازی نہیں تو پھر میں اس سے صلح کر لوں گا کیونکہ پبلک کے سامنے میری بریت کے لئے یہ اقرار کافی ہو گا اور مجھ سے الزام جعل سازی کا دُور ہو جاوے گا۔لیکن مولوی کرم دین نے اس بات کو نہ مانا۔پھر صلح کے لئے یہ دوسری تجویز سوچی گئی کہ مولوی کرم دین اور میری طرف سے دو پرچے علیحدہ علیحدہ لکھے جاویں۔میری طرف سے پرچہ میںیہ ذکر ہو کہ مَیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں نے الفاظ کذاب بہتاں ولئیم مولوی کرم دین کے متعلق یہ یقین کر کے لکھے تھے کہ خطوط محولہ مقدمات اور مضامین مندرجہ سراج الاخبار ۶و۱۳؍اکتوبر ۱۹۰۲ء مولوی کرم دین کے ہیں اور مَیں دُعا کرتا ہوں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو۔اسی طرح کرم الدین یہ تحریری بیان پیش کرے کہ مَیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ خطوط۱؎ محولہ مقدمات جومیری طرف سے ظاہر کیے گئے ہیں اور مضمون سراج الاخبار مندرجہ ۶؍ اکتوبر و ۱۳؍اکتوبر ۱۹۰۲ء جو میرے نام پر اخبار میںشائع ہوئے ہیں میرے نہیں ہیں اور مَیں دُعا کرتا ہوں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو۔یہ ہر دومسودے منشی غلام حیدرخان صاحب نے اپنی قلم سے لکھے اور ان مسودوں کو جناب شیخ خدا بخش صاحب ڈسٹرکٹ جج کے پاس میرے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب کے ہمراہ لے