مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 309
جس کے ساتھ وہ زندہ ہے اور ذرّہ ذرّہ اس کے ہاتھ سے نکلا اور اسی کے سہارے سے موجود ہے اور سب چیز پر وہ محیط ہے کیونکہ ہر ایک چیزاسی سے نکلی ہے۔نادان انسان جو تعصب سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ایک بات اپنے منہ سے نکالتاہے اور کبھی ارادہ نہیں رکھتا کہ اس کا فیصلہ کرے۔یہی آریہ صاحبان کا حال ہے گویا وہ اس دنیا میں ہمیشہ رہیں گے ورنہ ہم کہتے ہیں کہ اگر تم قرآن شریف کی ایک بات کو بھی ردّ کر سکو تو جو تاوان چاہو ہم پر لگالو خواہ تم تمام جائداد ہماری لے لو۔مگر کیا کسی کی نیت ہے کہ آرام سے اور آہستگی سے جیسا کہ عدالت میں مقدمات فیصلہ پاتے ہیں کسی چیز کا فیصلہ کرے ہرگز نہیں پس صبر کرو جب تک خدا ہمارا تمہارا فیصلہ کرے۔(۲) ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ فرشتے خدائے تعالیٰ کو جاکرنیکی بدی کی خبر دیتے ہیں اور اس وقت تک وہ بے خبر ہوتا ہے۔الجواب:- اس کا جواب یہ ہے کہ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَورنہ کھول کر دکھلاؤ کہ کہاں قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مَیں مخلوق کے حال سے بے خبر ہوںجب تک کوئی فرشتہ مجھے خبر نہ دے۔وہ تو بار بار قرآن شریف میں کہتا ہے کہ ذرّہ ذرّہ کی مجھے خبر ہے۔ایک پتہ بھی میرے حکم کے بغیر نہیں گرتا۔میں تعجب کرتا ہوں کہ یہ کس قسم کی روحیں ہیں کہ دلیری سے اس قدر افترا کرتے ہیں۔سارا قرآن اس بات سے بھرا ہوا ہے کہ خدا ہر ایک چیز کا بالذات علم رکھتا ہے۔پس ہم اس افترا کا کیا نام رکھیں کہ گویا مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا کو کچھ بھی اپنی مخلوق کی خبر نہیں جب تک فرشتے جاکر رپورٹ نہ دیں۔(۳) ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ خدا پہلے کچھ مدت تک بیکار رہا ہے کیونکہ دنیا ہمیشہ سے نہیں۔الجواب:- یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہرگز نہیں ہے کہ انسان کے پیدا کرنے سے پہلے خدا بیکار تھا بلکہ وہ بار بار قرآن شریف میں کہتا ہے کہ مَیں قدیم سے خالق ہوں مگر اس بات کی تفصیل کہ وہکس کس مخلوق کو پیدا کرتا رہا ہے یہ امر انسان کے احاطۂ اقتدار سے باہر ہے۔ہم قرآن کی رُو