مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 302
۲۶۱ (مندرجہ کتاب نسیم دعوت) آریہ صاحبوں کے بعض اعتراضات کے جواب میں انسان جب بغیر سوچنے سمجھنے کے محض نکتہ چینی کے ارادہ سے مخالفت کی نظر سے دیکھے توگو کیسا ہی کوئی امر سیدھا اور صاف ہو اس کی نظر میںجائے اعتراض ٹھہر جاتا ہے۔ایسا ہی آریہ صاحبوں کا حال ہے وہ اس ندامت کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے جو ایک اعتراض کے غلط اور بے جا ثابت ہونے میں ایک باحیا انسان کے دل پر صدمہ پہنچاتی ہے۔اب سنئے اعتراضات یہ ہیں جو ہمیشہ اسلام جیسے پاک اور کامل مذہب پر سراسر نادانی سے کرتے ہیں اور ہم اس وقت وہ اعتراض لکھتے ہیں جو انہوں نے ۲۸؍ فروری ۱۹۰۳ء کو قادیان میں جلسہ کر کے اسلام پر کئے اور اس طرح یہ ثابت کردیا کہ ان کے تعصب اور نا سمجھی اور ناحق کے کینہ کی کہاں تک نوبت پہنچی ہے۔اعتراضات ۱-مسلمان خدا کی نندیا کرتے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا عرش پر بیٹھا ہوا ہے اور چار فرشتوں نے اس تخت کو اٹھایا ہوا ہے۔اس طرح پرثابت ہوتا ہے کہ خدا محدود ہے اور قائم بالذات نہیں اور جب محدود ہے تو اس کا علم بھی محدود ہوگا اور حاضر ناظر نہ ہوگا۔الجواب اے حضرات! مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے۔تمام قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک پڑھو اس میں ہرگز نہیں پاؤ گے کہ عرش بھی