مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 301

انگریز ایک ایسی قوم ہے کہ جو انصاف کو مدنظر رکھتے ہیں اور میں چونکہ خوب جانتا تھا کہ یہ محض بے اصل اور قابل شرم بہتان تھا اور میرا صرف خدا پر بھروسہ تھا اس لئے اس مقدمہ کے راست راست فیصلہ ہونے پر میرا اعتقاد انگریزی سلطنت کے عدل پسند حکام کی نسبت زیادہ بڑھ گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ انگریز حکام صرف عدل پسند ہی نہیں ہیں بلکہ خدا نے ان کو عقل ایسی دی ہے کہ مخفی حقیقت کی تہ تک پہنچ جاتے ہیں۔یہ امر بہت مشکل ہے کہ جب ایک حاکم کے سامنے ایسا مدعی آوے جو اس کی قوم کا بزرگ اور قابل تعظیم اور جنٹلمین ہو اور مقابل میں میرے جیسا ہو دنیا سے الگ جس پر ایک طرف بباعث فرقہ جدیدہ ہونے کے قوم ناراض ہے اور دوسری طرف ایک فرقہ جدیدہ کا بانی ہونا انتظاماً بھی نگرانی کے لائق ہے پھر پوری پوری عدالت سے کام لیا جائے میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس کی نظیر ابھی تک کسی دوسرے فرقہ میں موجود ہے اور نہ میں اس کا قائل ہو سکتا ہوں جب تک کہ اس کو دیکھ نہ لوں۔پس جس قوم میں ایسے عدل پسند حکاّم ہیں جو فیصلہ کے وقت خدا سے ڈرتے ہیں اور عدالت کو ہر ایک تعارف پر مقدم رکھتے ہیں اور اپنی قوم کے بزرگوں کی بھی عدالت میں رعایت نہیں کرتے۔ان کا سچا وفادار نہ ہونا میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس سے زیادہ کوئی بدبختی اور شقاوت ہے۔میں نے اس نمونہ کو جو کپتان ڈگلس کی عدالت میں دیکھا ضائع نہیں کیا بلکہ ایک کتاب اس کے نام پر تالیف کر کے شائع کر دی اور میں جانتا ہوں کہ صدہا سال تک یہ عادلانہ کارروائی میری جماعت کو یاد رہے گی۔(ریویو آف ریلیجنز اردو جلد نمبر۲ نمبر۱ صفحہ ۱۸ تا ۲۶)