مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 300

کیا جائے۔اب یہ زمانہ نیا رنگ پکڑ گیا ہے اور عملی تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ طریق جو میں نے بیان کیا ہے بہت مؤثر ہے۔پس ہماری گورنمنٹ کو چاہیے کہ اس سے پورے طور پر فائدہ اٹھاوے۔مسلمانوں کے لئے اس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ درحقیقت خدا تعالیٰ کا یہ بڑا فضل ہے کہ یہ عادل گورنمنٹ ان پر حکمرانی کر رہی ہے اگر یہ گورنمنٹ اس ملک سے دستکش ہو جائے تو چند روز میں قوموں کی باہم کشت و خون سے خون بہنے شروع ہو جائیں اور کیڑوں کی طرح ایک دوسرے کو کھالیں تب ہاتھ جوڑ کر پھر اس گورنمنٹ کو اپنے ملک میں لاویں گے۔انسان کے لئے امن اور عافیت کی زندگی اور عادل سلطنت کے زیرسایہ رہنا بڑی چیز ہے گویا اسی دنیا میں بہشت ہے اور جن حکومتوںکے ماتحت جان و مال ہردم خطرہ میںہے وہ اگرچہ مسلمان کہلاویں لیکن ان کا وجود آرام دِہ نہیں ہے۔ہم لوگوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ہم کو ایسے حکام ملے ہیںجو حکومت کی کرسی پر بیٹھ کر مذہبی رعایتوں کو طاق پر رکھ دیتے ہیں اور جو تقاضاانصاف اور عدالت کا ہے وہی کرتے ہیں مجھے اس بات کے لکھنے سے خوشی ہے میرے پاس اس دعویٰ پر ایک نظیر بطور ثبوت کے ہے جس پر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ انگلش افسروں کی کس قدر نیتیں نیک ہیں اور وہ کس قدر عدالت اور انصاف کے دلدادہ ہیں اور وہ یہ ہے کہ چند سال ہوئے ہیں کہ ایک مشنری صاحب نے جن کا نام ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک ہے ایک جھوٹا مقدمہ اقدام قتل کا میرے پر دائر کیا میرا خیال ہے کہ یہ ان کا گناہ نہیں تھا بلکہ بعض عیسائیوں نے ان کو دھوکا دیا تھا پھر وہ مقدمہ کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں جو حال میں دہلی کے ڈپٹی کمشنر صاحب ہیں تحقیقات ہوتا رہا صاحب موصوف نے اس مقدمہ پر پوری توجہ سے غور کی اور کئی دنوں کی کوشش کے بعد معلوم کر لیا کہ یہ مقدمہ محض دروغ اور سراسر بہتان ہے تب اس کو خارج کیا اور مجھے پوری صفائی سے بری فرمایا۔اس مقدمہ کے دیکھنے والے ہزارہا آدمی تھے جاہلوں کو یہ خیال تھا کہ ایک مشنری کا مقدمہ اور انگریز کے پاس ہے وہ بہرحال اس مشنری کی رعایت کرے گا۔لیکن جس روز وہ مقدمہ خارج کیا گیا اس دن لوگوں کے منہ سے بے اختیار نکلتا تھا کہ درحقیقت ا