مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 297

طرح بنی اسرائیل کے نبیوں کا سلسلہ آخر کو ایک ایسے نبی پر ختم ہوا جس نے تلوار نہیں اُٹھائی اور نہ جہاد کیا اور محض اخلاقی تعلیم کی قوت سے دلوں کو اپنی طرف کھینچا ایسا ہی محمدی سلسلہ میں جب وہی زمانہ آئے گا یعنی جبکہ ہجرت سے چودھویں صدی آئے گی جو اس زمانہ سے بہت مشابہ ہے جبکہ حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ کے بعد پیدا ہوئے تھے تب حضرت عیسیٰ مسیح کی مانند اس امت میںبھی ایک شخص پیدا ہو گا۔جو نہ جہاد کرے گااور نہ تلوار اٹھائے گا اور آرام سے اور صلح کاری سے دلوں کو خدا کی طرف پھیردے گا اور قرآن شریف سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ آخری مسیح جو پہلے مسیح کے قدم پر آئے گا۔آدم کے زمانہ سے چھٹے ہزار کے آخر پر پیدا ہو گا یہ پیشگوئی ہے جو قرآن شریف میں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرورہے کہ اسلام چودھویں صدی میں اپنی ترقی کا تمام مدار اخلاقی اور عقلی اور اعجازی نمونوں پر رکھے۔جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رکھا یہی ہے جو دوسرے لفظوں میں مسیح کا دوبارہ آنا بیان کیا جاتا ہے۔اس میں یہ جتلانا منظور ہے کہ پہلے مسیح میں اور دوسرے مسیح میں ایسی مشابہت ہے کہ گویا وہ دونوں ایک ہیں۔یہی ایک پیشگوئی ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہوتی ہے۔باقی سب باطل اور جھوٹے قصے ہیں جو لوگوں نے بنا رکھے ہیں اور مہدی کے متعلق جس قدر حدیثیں ہیں ان میں سے ایک بھی صحیح نہیں ہے قرآن نے دو مسیح بالمقابل رکھے ہیں ایک مسیح اسرائیلی اور ایک مسیح محمدی اور دونوں کی نسبت بیان ہے کہ وہ محض اخلاقی تعلیم اور آسمانی نشانوں سے دین کو پھیلانے والے ہیں۔پہلے اس سے اسرائیلی سلسلہ میں موسیٰ اور یشوعا وغیرہ نبیوں کی لڑائیوں سے یہ شک کیا گیا تھا کہ شاید مذہب ایسا ہے کہ اس میں بجز تلوار کے اور کچھ نہیں۔پس خدا نے نہ چاہا کہ وہ شک دلوں میں باقی رہے اس لئے اس نے موسوی سلسلہ کے آخری زمانہ میں یسوع مسیح کو بھیجا تا اپنی اخلاقی تعلیم سے اس شک کو دور کر دے۔اسی طرح محمد یؐ سلسلہ میں بھی جبکہ پہلے زمانہ میں بطور مدافعت کے لڑائیاں ہوئیں تو لوگوں نے بعد میں یہ اعتراض اسلام پر کیا کہ وہ جبر سے دین کو پھیلاتا رہا ہے۔حالانکہ وہ لڑائیاں مخالفوں کے حملوں کے دفع کے لئے تھیں نہ دین کے پھیلانے کے لئے جیسا کہ قرآن شریف میں