مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 296

صورت میں اور بھی واجب ہوا کہ اس کتاب کا اثر دور کر دیا جائے اگر گورنمنٹ یہ عذر پیش کرے کہ ایسی ہدایت گویا ایک جبر کی قسم ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ یہ جبر نہیں ہے جس بات میں لوگوں کی بھلائی اور امن کی ترقی اور عافیت کی امید ہے وہ جبر کیونکر ہو سکتا ہے ایسے خیالات مسلمانوں کو پستی کی طرف لے جارہے ہیں اور درندگی کی قوتیں بڑھتی جاتی ہیں اور اس ملک کے علماء کا کیا حرج ہے کہ ایسی مبسوط کتاب تصنیف کر کے اپنے دستخطوں اور مہروں سے مزین کریں ان پر کوئی خرچ نہیں ڈالا جاتا بلکہ اس تمام خرچ کا میں ہی ذمہ اٹھاتا ہوں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے صفائی اور پوری دیانت سے ایسی کتاب تالیف ہونی چاہیے میں ان کی نسبت کوئی بدظنی نہیں کرتا۔مگر میرا کانشنس اس بات کو نہیں مانتا کہ جب تک پوری صفائی اور پورے دل کے جوش سے ایسی کتاب نہ لکھی جائے اور ایسے تمام امور کی جڑھ کاٹ نہ دی جائے جو جہادی مسائل کی طرف حرکت دیتے ہیں یا کسی آئندہ جہاد کی امید دیتے ہیں۔تب تک وہ کتاب مؤثر ہو سکے اس لئے ہمیں چاہیے کہ اس جڑ کو اپنے عقائد کے اندر سے بکلی نکال دیں جس کی زہر کسی وقت پھوٹنے کے لئے طیاّر ہے۔میرے خیال میں یہ دو عقیدے جہاد کی جڑھ ہیں (۱) ایک یہ کہ جوامید کی جاتی ہے کہ اب عنقریب زمانہ میں کوئی ایسا مہدی آنے والا ہے کہ جو جہاد اور اپنی مذہی لڑائیوں سے زمین کو خون سے پُر کر دے گا۔(۲) دوسری یہ کہ مہدی کے ہاتھ بٹانے کے لئے کوئی مسیح آسمان سے آنیوالا ہے جس کا کام بھی یہی بیان کیا جاتا ہے کہ وہ بھی سخت دل سپاہیوں کی طرح تلوار سے دین کو پھیلانا چاہے گا۔میں دیکھتا ہوں کہ اب ایسے عقیدوں کا زمانہ گذرتا جاتا ہے اور وہ جو ایسی بحثوں میں سختی سے پیش آتے تھے اب وہ خودبخود سمجھتے جاتے ہیں اور دل جلدجلد صاف ہوتے جاتے ہیں۔بعض نادانوں کا پہلے اس سے ان عقیدوں پر بہت غلو تھا اور اب بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیںجو تہذیب اور انسانیت سے بہت کم حصہ رکھتے ہیں۔وہ ان بیہودہ عقیدوں پر اب تک قائم ہیں۔اگر یہ عقیدے قرآن شریف میں مذکور ہوتے تو ایسے عقیدوں والے پر کچھ افسوس نہ تھا لیکن تعجب تو یہ ہے کہ ان ہر دو عقیدوں کا قرآن شریف میں نام و نشان نہیں۔ہاں سورۃ فاتحہ اور سورۃ نور اور کئی اور سورتوں میں اشارہ کیا گیا ہے کہ جس