مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 295

ہوں۔پس میرے نزدیک تدبیر یہ ہے کہ ایک کتاب مبسوط مخالفت جہاد میں لکھی جائے جس کا یہ مطلب ہو کہ بموجب آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ اور اصول انصاف کے اس گورنمنٹ سے ہرگز جہاد درست نہیں کیونکہ وہ دادگستری اور حق پسندی اور رعیت پروری اور بہت سے اپنے منصفانہ اصولوں کے رو سے دین اسلام کی حامی ہے اور علاوہ اس کے مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ ہندوستان کے پہلے بادشاہوں کے زمانہ کی نسبت علمی ترقی اور امن اور آزادی میں گورنمنٹ انگریزی کی رعایامسلمان آگے بڑھ گئے ہیں بلکہ اگر زیادہ غور کرو تو معلوم ہو گا کہ انگریزی قوانین اسلام کے لئے راستہ صاف کر رہے ہیں۔ان تمام امور کے لحاظ سے اس محسن گورنمنٹ سے بغاوت یا مقابلہ یا سرکشی سے پیش آنا صرف ناجائز ہی نہیں بلکہ اسلام سے خارج ہونا ہے۔جب ایسی کتاب طیار ہو جائے تو تمام سرآمد علماء کے اس پر دستخط ہو جائیں۔اور پھر وہ کتاب زبان پشتو اور فارسی اور عربی میں ترجمہ کی جائے اور ایسی کتاب کی چالیس۴۰ ہزار کاپی چھپوائی جائے اور ملک میں اور سرحدی ممالک میں تقسیم کی جائے اگر ایسا ہو تو میں نے منظور کیا ہے کہ دس۱۰ ہزار روپیہ تک اس کی چھپوائی کے اخراجات میں خود دیدوں گا۔مگر شرط یہ ہے کہ محض بیہودہ اور مجمل اور منافقانہ بیان نہ ہو بلکہ ہر ایک پہلو سے مکمل ہو۔میں اس بات کو خوب جانتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ وہ بیان کس قوت کے ہوتے ہیں جو دل کی سچائی سے نکلتے ہیں اور وہ بیان کیسے بودے اور کمزور ہوتے ہیں جو محض منافقانہ ہوتے ہیں۔منافقانہ بیان ایک مردہ بیان ہوتا ہے اور اس کی ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک پھوڑے کے اندر بہت سی پیپ بھری ہو اور بظاہر دکھائی دیتا ہو کہ وہ زخم مل گیا ہے مگر جو بیان دل سے نکلتا ہے وہ آخر دلوں کو جا پکڑتا ہے۔میں اس بارے میں ایسی تحریروں کو پسند نہیں کرتا جو گول مول ہوں اور صرف دوچار مختصر ورق ہوں۔بلکہ چاہیے کہ بہت مبسوط کتاب ہو اور اس میں تین قسم کے زبردست دلائل ہوں (۱) اوّل آیات قرآنی سے تمسک ہو (۲) دوسرے حدیث سے تمسک ہو (۳) تیسرے دلائل عقلیہ سے تمسک ہو۔اور میں نے سنا ہے کہ بعض والیان ریاست سرحدی نے جہاد پرزور دینے کے لئے ایک کتاب لکھی ہے اس