مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 287

کی مدت دراز سے ایک دلی تمنا ہے جس کے پیش کرنے کے لئے اس وقت سے زیادہ مبارک کوئی وقت نہیں کہ ہمارے بادشاہ عالیجاہ قیصر کی تاجپوشی کے جلسہ کا دن قریب ہے اس لئے مجھے تحریک کی گئی کہ میں اس التماس کو ادب سے پیش کروں کیونکہ میں ایک ایسے مسلمانوں کے گروہ کا امام ہوں کہ جو برٹش انڈیا اور دوسرے مقامات میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے اور میں ضروری نہیں سمجھتا کہ میں ان کے نام لکھوں کیونکہ وہ مجھ سے بیعت کرنے والے ہیں یعنی میرے مرید ہیں اور مجھ سے الگ نہیں ہیں۔یہ وہ فرقہ ہے جو فرقہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہے اور پنجاب اور ہندوستان اور دیگر متفرق مقامات میں پھیلا ہوا ہے یہی وہ فرقہ ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے چنانچہ اب تک ساٹھ کے قریب میںنے ایسی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو اور انگریزی میں تالیف کر کے شائع کی ہیں جن کا یہی مقصد ہے کہ یہ غلط خیالات مسلمانوں کے دلوں سے محو ہو جائیں اس قوم میں یہ خرابی اکثر نادان مولویوں نے ڈال رکھی ہے لیکن اگر خدا نے چاہا تو میں امید رکھتا ہوں کہ عنقریب اس کی اصلاح ہو جائے گی۔گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام کی طرف سے ایسی کارروائیوں کا ہونا ضروری ہے جن سے مسلمانوں کے دلوں میں منقوش ہو جائے کہ یہ سلطنت اسلام کے لئے درحقیقت چشمۂ فیض ہے اور نہایت خوشی کی بات ہے کہ حضور لارڈکرزن بالقابہ نے ایسی نمایاں کارروائیاں کی ہیں کہ مسلمانوں کو کبھی نہیں بھولیں گی جیسا کہ لاہور کے قلعہ کی مسجد کا مسلمانوں کو عطا کرنا اور ایک باہر کی مسجد جس پر ریل والوں کا قبضہ تھا مسلمانوں کو عنایت فرمانا اور نیز اپنی طرف سے دہلی کی شاہی مسجد کے لئے ایک قیمتی لال ٹین اپنی جیب سے مرحمت فرمانا ان فیاضانہ کارروائیوں سے جس قدر مسلمان شکر گزار اور گرویدہ ہیں اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا لیکن ایک تمنا ان کی ہنوز باقی ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ جن ہاتھوں سے یہ مرادیں پوری ہوئی ہیں وہ تمنا بھی انہیں ہاتھوں سے پوری ہو گی اور وہ آرزو یہ ہے کہ روز جمعہ ایک اسلامی عظیم الشان تہوار ہے اور قرآن شریف نے خاص کر کے اس دن کو تعطیل کا دن ٹھہرایا ہے اور اس بارے میں خاص ایک سورۃ