مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 285
اصلاح حسب ِ منشا ُکھلی چٹھی مولوی ثناء اللہ صاحب چونکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ کفن وغیرہ کی آمدنی جو اس ملک میں اکثر مُلاّ ئوں کو ہوا کرتی ہے کبھی ان کو اس سے تعلق نہیں ہوا۔اور وہ اپنی تجارت سے گذارہ کرتے ہیں اس لئے ہمیں ان کی ان ذاتیات سے بحث نہیں اور ہم قبول کرتے ہیں کہ ایسا ہی ہو گا۔یہ قول محض اس بناء پر تھا کہ ہمارے ملک میں اکثر مُلاّ ایسے پائے جاتے ہیں کہ مسجدوں سے تعلق رکھتے اور پیشہ غسل اموات و جنازہ رکھتے ہیں اور اس کی آمدنی لیتے ہیں۔اب جبکہ وہ ظاہر کرتے ہیں کہ مَیں ان میں سے نہیں ہوں سو ہم اپنی اس قدر تحریر کے اس اشتہار سے اصلاح کر دیتے ہیں اور درحقیقت ہماری غرض اوّل سے الزام نہیں ہے کیونکہ صدہا مُلاّ اس ملک میں ایسے پائے جاتے ہیں کہ یہ خدمت غسل اموات و جنازہ اپنے ذمہّ لے لیتے ہیں ان کو بھی ہم بُرا نہیں کہتے کہ قدیم سے یہ کام چلا آتا ہے کوئی ان کو بُرا نہیں کہہ سکتا وہ سب اپنی اپنی جگہ پر عزت رکھتے ہیں۔المشتہر مرزا غلام احمد از قادیان ۲۰؍ دسمبر ۱۹۰۲ء (یہ اشتہار الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۲ء کے صفحہ ۶ پر درج ہے)