مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 274
تمام عیسائیوں کے لئے حق کی شناخت کے لیے ایک راہ نکل آئے گی۔میں نے ایسی دعا کے لیے سبقت نہیں کی بلکہ ڈوئی نے کی۔اس سبقت کو دیکھ کر غیور خدا نے میرے اندر یہ جوش پیدا کیا اور یاد رہے کہ میں اس ملک میں معمولی انسان نہیں ہوں۔میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا ڈوئی انتظار کر رہا ہے۔صرف یہ فرق ہے کہ ڈوئی کہتا ہے کہ مسیح موعود پچیس برس کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا اور میں بشارت دیتا ہوں کہ وہ مسیح پیدا ہو گیا اور وہ میں ہی ہوں۔صدہا نشان زمین سے اور آسمان سے میرے لیے ظاہر ہو چکے ایک لاکھ کے قریب میرے ساتھ جماعت ہے جو زور سے ترقی کر رہی ہے۔ڈوئی بیہودہ باتیں اپے ثبوت میںلکھتا ہے کہ میںنے ہزارہا بیمار توجہ سے اچھے کئے ہیں۔ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ کیوں پھر اپنی لڑکی کو اچھا نہ کر سکا او ر وہ مرگئی اور اب تک اس کے فراق میں روتا ہے اور کیونکر اپنے اس مرید کی اس عورت کو اچھا نہ کر سکا جو بچہ جن کر مر گئی اور اس کی بیماری پر بلایا گیا مگر وہ گذر گئی۔یاد رہے کہ اس ملک کے صدہا عام لوگ اس قسم کے عمل کرتے ہیں اور سلبِ امراض میں بہتوں کو مشق ہو جاتی ہے اور کوئی ان کی بزرگی کا قائل نہیں ہوتا۔پھر امریکہ کے سادہ لوحوں پر نہایت تعجب ہے کہ وہ کس خیال میں پھنس گئے کیا ان کے لئے مسیح کو ناحق خدا بنانے کا بوجھ کافی نہ تھا کہ یہ دوسرا بوجھ بھی انہوں نے اپنے گلے ڈال لیا۔اگر ڈوئی اپنے دعویٰ میں سچا ہے اور درحقیقت یسوع مسیح خدا ہے تو یہ فیصلہ ایک ہی آدمی کے مرنے سے ہو جائے گا۔کیا حاجت ہے کہ تمام ملکوں کے مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے لیکن اگر اس نے اس نوٹس کا جواب نہ دیا اور یا اپنے لاف و گزاف کے مطابق دعا کر دی اور پھر دنیا سے قبل میری وفات کے اٹھایا گیا تو یہ تمام امریکہ کے لئے ایک نشان ہو گا۔مگر یہ شرط ہے کہ کسی کی موت انسانی ہاتھوں سے نہ ہو بلکہ کسی بیماری سے یا بجلی سے یا سانپ کے کاٹنے سے یا کسی درندہ کے پھاڑنے سے ہو اور ہم اس جواب کے لئے ڈوئی کو تین ماہ تک مہلت دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا سچوں کے ساتھ ہو۔آمین۔یادر ہے کہ صادق اور کاذب میں فیصلہ کرنے کے لئے ایسے امور ہرگز معیار نہیں ٹھہر سکتے جو دنیا کی قوموں میں مشترک ہیں۔کیونکہ کم و بیش ہر ایک قوم میں وہ پائے جاتے ہیں انہیں امور میں