مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 270
انسانوں کو یہ سبق ملا کہ مذہبی جھگڑوں کا تلوار فیصلہ نہیں کر سکتی لیکن ہم جانتے ہیں کہ اب آسمانی فیصلہ نزدیک ہے کیونکہ خدائے غیور کی زمین پر نہایت تحقیر ہو رہی ہے۔ہر ایک عیسائی مشنری یہ جوش اپنے دل میں رکھتا ہے کہ وہ خدا جس کی نسبت توریت میں ابتک صحیح تعلیم موجود ہے اس کو بالکل معطل کر کے ابن مریم کو اس کا تخت دیا جائے اور دنیا میں ایک بھی اس خدا کا نام لیوا نہ ہو اور ہر ایک قوم کے منہ سے اور ہر ایک ملک سے یہی آواز نکلے کہ یسوع مسیح خدا اور ربّ العالمین اور خداوندوں کا خداوند ہے اور یہ صرف آرزو نہیں بلکہ یسوع کو خدا بنانے کے لئے جس قدر روپیہ صرف کیا گیا ہے۔جس قدر کتابیں لکھی گئی ہیں۔جس قدر ہر ایک تدبیر کی گئی۔دنیا کی ابتدا سے آج تک اس کی نظیر موجود نہیں اور افسوس کہ ایک مدت سے مسلمانوں کی یہ عادت ہے کہ معقول اور سیدھے طور پر اس مذہب کا مقابلہ نہیں کرتے بلکہ اگر خاص مجمعوں میں کبھی یہ ذکر آتا ہے تو بڑا ذریعہ اپنی ترقی کا جہاد کو ٹھہراتے ہیں اور ایک ایسے زمانہ کے منتظر ہیں کہ گویا اس وقت ان کا کوئی مہدی اور مسیح تلوار سے تمام قوموں کو نابود کر دے گا۔گویا وہ اعتراض جو نادانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تلوار پر کیا تھا اس کا جواب بھی آخرکار تلوار ہی ہو گا۔میری دانست میں یہی سبب مسلمانوں کے تنزل کا ہے کہ انسانی رحم کی قوت ان کے دلوں سے بہت گھٹ گئی ہے۔میں ہر ایک مسلمان کو ایسا نہیں سمجھتا لیکن میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ کروڑھا انسان ابھی ان میں ایسے موجود ہیں کہ بنی نوع کے خون کے پیاسے ہیں۔مجھے تعجب ہے کہ کیا وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کو کوئی قتل کر دے۔اور ان کے یتیم بچے اور ان کی بیوہ عورتیں بیکسی کی حالت میں رہ جائیں۔پھر وہ دوسروں کی نسبت ایسا کرنا کیوں روا رکھتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اگر یہ مرض مسلمانوں کے لاحق حال نہ ہوتی تو وہ تمام یورپ کے دلوں کو فتح کر لیتے۔ہر ایک پاک کانشنس گواہی دے سکتا ہے کہ عیسائی مذہب کچھ بھی چیز نہیں انسان کو خدا بنا دینا کسی عقلمند کا کام نہیں۔یسوع مسیح میں اور انسانوں کی نسبت ایک ذرہ خصوصیت نہیں بلکہ بعض انسان اس سے بہت بڑھ کر گذرے ہیں اور اب بھی یہ عاجز اسی لئے بھیجا گیا ہے کہ تا خدائے قادر لوگوں کو دکھلاوے کہ اس کا فضل اس عاجز پر ا