مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 269
ور اس کی ماں کے پیدا ہونے سے بھی پہلے ہی موجود تھابلکہ وہ چاہتے ہیں کہ کل دنیا اور کل نوع انسان جو آسمان کے نیچے ہے۔ابن مریم کو ہی خدا سمجھ لے اور اسی کو اپنا معبود اور خالق اور خداوند اور منجی مان لے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان کے ارادوں کے مقابل پر خدائے ذوالجلال نے بہت صبر کیا ہے۔اس کی عزت ایک عاجز بندہ کو دی گئی۔اس کے جلال کو خاک میں ملایا گیا مگر اس نے اب تک صبر کیا کیونکہ جیسا کہ وہ غیور ہے ویسا ہی وہ صابر بھی ہے۔ان ظالم مخلوق پرستوں نے تمام خدائی صفات یسوع ابن مریم کو دے دیئے۔اب ان کی نظرمیں جو کچھ ہے یسوع ہے۔اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔اب سچے خدا کی مثال یہ ہے کہ ایک امیر نے اپنے عزیزوں کے لئے ایک نہایت عمدہ گھر بنایا اور اس کے ایک حصہ میں ایک بستاں سرائے تیار کیا جس میں طرح طرح کے پھول اور پھل اور سایہ دار درخت تھے اور اس گھر کے ایک حصہ میں اپنے ان عزیزوں کو رکھا اور ایک حصہ میں اپنا مال و حشمت اور قیمتی اسباب مقفل کیا اور ایک حصہ بطور سرائے کے مسافروں کے لئے چھوڑا۔لیکن جب مالک چند روز کے لئے سیر کو گیا تو ایک شوخ دیدہ اجنبی نے اس کے اس گھر پر جو بطور سرائے کے تھا دخل اور تصرف کر لیا اور تمام گھر بجز چند حجروں کے جس میں اس مالک کے عزیز تھے یا جن میں اس مالک کا قیمتی اسباب مقفل تھا خود بخود استعمال میں لانے لگا اور اس سرائے کو اپنا گھر بنا لیا اور پھر اسی پر کفایت نہ کی بلکہ اس گھر سے اس مالک کے عزیزوں کو نکال دیا اور مقفل مکانوں کے قفل توڑ دیئے اور تمام اسباب پر اپنا قبضہ کر لیا۔اب مالک جو صرف اس گھر کا مالک نہیں بلکہ اس ملک کا بادشاہ بھی ہے جب اس شہر میں آئے گا اور اس ظلم اور شوخی کو دیکھے گا تو کیا کرے گا۔اس کا یہی جواب ہے کہ جو کچھ مقتضا اس کی سلطنت اور غیرت اور جبروت کا ہے سب کچھ عمل میں لائے گا۔اور اس گھر کو اس ظالم سے خالی کراکر پھر اپنے مظلوم عزیزوں کو اس میں داخل کرے گا اور وہ تمام مال جو غصب کیا گیا ان کو دے گا اور وہ مسافرخانہ بھی انہیں کو عطا کر دے گا تاآئندہ ان کی مرضی کے برخلاف کوئی اس میں زیادہ ٹھہر نہ سکے۔اسی طرح اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ تمام مذہبی جھگڑوں کا فیصلہ کر دیوے۔انسانوں میں بہت سی لڑائیاں ہوئیں۔بہت سے جنگ ہوئے لیکن ان کے جنگوں یا جہادوں سے یہ جھگڑا فیصلہ نہ ہو سکا آخر ان کی تلواریں ٹوٹ کر رہ گئیں۔اس سے