مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 268
وہ پہلے مرجائے تو ضرور اس کا دشمن پہلے مرتا ہے۔اب اس زمانہ میں جب خدا نے دیکھا کہ زمین بگڑ گئی اور کروڑہا مخلوقات نے شرک کی راہ اختیار کر لی اور چالیس کروڑ سے بھی زیادہ ایسے لوگ دنیا میں پیدا ہو گئے کہ ایک عاجز انسان مریم کے بیٹے کو خدا بنا رہے ہیں اور ساتھ ہی شراب خوری اور بے قیدی اور دنیا پرستی اور غافلانہ زندگی انتہا تک پہنچ گئی تو خدا تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے مامور کیا کہ تا میں ان خرابیوں کی اصلاح کروں۔سو اب تک میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قریب انسان بدی سے اور بد عقیدگی اور بداعمالی سے توبہ کر چکا ہے اور ڈیڑھ سو سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکا ہے جس کے اس ملک میں کئی لاکھ انسان گواہ ہیں اور میں بھیجا گیا ہوں کہ تا زمین پر دوبارہ توحید کو قائم کروں اور انسان پرستی یا سنگ پرستی سے لوگوں کو نجات دے کر خدائے واحد لاشریک کی طرف ان کو رجوع دلائوںاور اندرونی پاکیزگی اور راستبازی کی طرف ان کو توجہ دوں۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں میں ایک تحریک پیدا ہو گئی ہے اور ہزارہا لوگ میرے ہاتھ پر توبہ کرتے جاتے ہیں اور آسمان سے ہوا بھی ایسی چل رہی ہے کہ اب توحید کے موافق طبیعتیں ہوتی جاتی ہیں اور صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ ہے کہ انسان پرستی کو دنیا سے معدوم کر دے۔اس ارادہ کے پورا کرنے کے لئے صدہا اسباب پیدا کئے گئے ہیں۔افسوس کہ مخلوق پرست لوگ جن سے مراد میری اس جگہ وہ عیسائی ہیں جو مریم کے صاحبزادہ کو خدا جانتے ہیں۔ابھی اپنے مشرکانہ مذہب کی اس ترقی پر خوش نہیں ہوئے جواب تک ہو گئی ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام دنیا حقیقی خدا کو چھوڑ کر اُس ضعیف اور عاجز انسان کو خدا کر کے مانے جس کو ذلیل یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر کھینچا تھا۔اس خواہش کا بجز اس کے اور کوئی سبب نہیں کہ مخلوق پرستی کی عادت نہایت بدعادت ہے جس میں گرفتار ہو کر پھر انسان دیکھتا ہوا اندھا ہو جاتا ہے۔مگر پادریوں کی اس قدر دلیری بہت ہی قابل تعجب ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ زمین پر ایک بھی ایسا شخص رہے کہ وہ اس اصلی خدا کو ماننے والا ہو جو ابن مریم