مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 256

فرزند ہیں جنہوں نے دُنیا کو قبول کر رکھا ہے۔کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ دنیا کو تین طلاق بھیج کر ہماری راہ پر چلیں گے اور ہمارے سلسلہ کے لئے اپنی عمریں وقف کر دیں گے۔یہ بالکل جھوٹ ہے۔ہمارا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا بلکہ اکثر لڑکے اپنی دنیا کے لئے ہی مرتے ہیں اور جب اس قدر کوئی ڈگری حاصل کر لیں گے کہ جس سے وہ نوکر ہو سکیں تب وہ فی الفور روحانی تناسخ کو قبول کر کے ایک اَور جُون میں آ جائیں گے بھلا جوش جوانی کی ہزاروں ظلمتوں اور جذبات سے باہر آنا سہل بات ہے یا ہر ایک کا کام ہے نہیں بلکہ نہایت ہی مشکل ہے۔لیکن میری اُمیدیں ان غریبوں پر بہت ہیں جو نہ بی اے بننا چاہتے ہیں اور نہ ایم۔اے بلکہ بقدر کفایت معاش دنیا اختیار کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں ہر دم یہ خلش ہے کہ کسی طرح ہم نیک انسان بن جائیں اور خدا ہم سے راضی ہو۔سو وہ ہدایت پانے سے بہت قریب ہیں کیونکہ ان کے خیالات میں تفرقہ نہیں ہے۔وہ میرے پاس رہ کر ہر روز تازہ بتازہ ہدایت پا سکتے ہیں۔سو انہیں کا سب سے زیادہ مجھے فکر ہے کیونکہ ہم عمر کا بہت سلسلہ طے کر چکے ہیں اور تھوڑا باقی ہے۔اسی اطمینان کے حاصل کرنے کے لئے مَیں یہ اشتہار شائع کرتا ہوں۔یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں یہ آخری فیصلہ کرتا ہوں۔مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میرا انہیں سے پیوند ہے یعنی وہی خدا کے دفتر میں مُرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔مگر بہتیرے ایسے ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔سو ہر ایک شخص کو چاہیے کہ اس نئے انتظام کے بعد نئے سرے عہد کر کے اپنی خاص ۱؎ تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض ؎ تقسیم اشتہارات کا یہ قاعدہ ہے کہ ہر ایک شہر میں چند اشتہار ایک آدمی کی طرف بھیجے جاتے ہیں۔پس ہر ایک صاحب کو جس کے پاس ان اشتہارات کا پیکٹ پہنچے ‘ لازم ہے کہ وہ اپنے شہر اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو جو سلسلہ بیعت میں داخل ہیں اس اشتہار کا مضمون بخوبی سمجھا کر ازسرنو اس سے عہد اس چندہ کا لے۔پھر ان تمام لوگوں کے ناموں کی ایک فہرست مرتب کر کے بھیج دے۔اگر وہ لوگ خواندہ ہوں تو ان کے دستخط بھی کرا دے۔منہ