مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 202
المرء الاالصدق فاطلبوہ بدقّ باب الحضرۃ۔واقبلوا علی اللّٰہ کل الاقبال لھٰذہ الخطّۃِ۔وادعوہ فی جوف اللیالی وخرّوا باکین للّٰہ ذی العزۃ والجبروت ولا تمرّوا ضاحکین ھامزین واستعیذوا باللّٰہ من الطاغوت۔یاعباد اللّٰہ تذکروا وتیقظوا فان المسیح الحَکَم قدأَتٰی۔فاطلبوالعلم السماوی ولا تقوِّ موا متا عکم فی حضرۃ المولٰی۔وواللّٰہ انّی من اللّٰہ اتیتُ وما افتریتُ وقدخاب من افتریٰ۔انّ ایاّم اللّٰہ قداَتَتْ وحسراتٌ علی الذی ابٰی۔ولا یُفلح المُعرض حیث أَتٰی۔والحق والحق اقول ان مجیٔ المسیح من ھٰذہ الامۃ کان امرا مفعولا من الحضرۃ من مقتضی الغیرۃ۔وکان قدّر ظہورہ من یوم الخلقۃ۔والسرّفیہ ان اللّٰہ اراد ان یجعل اٰخرالدنیا کأولھا فی نفی الغیر والمحوفی طاعۃ الحضرۃ الاحدیۃ۔واسلاک الناس فی سلک الوحدۃ بقیہ ترجمہ۔اس لئے خدا تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹا کر اسے طلب کرو۔اور اس کام کے لئے اﷲ تعالیٰ کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جائو۔اس سے راتوں میں دعائیں کرو اور اس صاحب عزّت و جبروت کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے گِرجائو اور ہنستے ہوئے اور چٹکی لیتے ہوئے نہ گذر جائو۔اور شیطان سے اﷲ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔اے بندگان خدا! نصیحت پکڑو اور بیدار ہو جائو کہ مسیح جو حَکَم ہے آگیا ہے۔پس تم آسمانی علم کو حاصل کرو اور خدا تعالیٰ کے حضور اپنے ناقص متاع کی کوئی قیمت نہ سمجھو۔اور اﷲ تعالیٰ کی قسم مَیں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں۔اور مَیں نے کوئی افتراء نہیں کیا اور جو افتراء کرے وہ ناکام ہوتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کے دن آ گئے ہیں اور جو انکار کرے اس پر افسوس ہے اور اعراض کرنے والا جہاں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔اور حق (مَیں حق ہی کہتا ہوں) یہ ہے کہ مسیح موعود نے اسی امت سے آنا تھا اور یہ امر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے تقاضائے غیرت کی وجہ سے ہو کر رہنا تھا اور اس نے اس کے ظہور کو ابتدائے آفرینش سے مقدر کر رکھا تھا اور اس میں یہ راز تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ وہ دنیا کے آخری حصّہ کو غیر اﷲ کی نفی کرنے اور حضرت احدیت کی اطاعت میں محو ہو جانے میں اور لوگوں کو بعد اس کے کہ وہ قہری وحدت کی طرف بلائے گئے طبعی وحدت کی لڑی میں پرونے کے