مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 197
وکذالک اراد اللّٰہ وقضٰی۔واما عیسٰی فھومن خدام الشریعۃ الاسرائیلیۃ ومن انبیاء سلسلۃ موسٰی۔وما اوتی لہ شریعۃ کاملۃ مستقلّۃ ولا یوجد فی کتابہ تفصیل الحرام والحلال والوراثۃ والنکاح ومسائل اخرٰی۔والنصارٰی یُقِرُّون بہ بقیہ ترجمہ۔واقع ہوئے ہیں اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ اور فیصلہ فرمایا ہے۔عیسیٰ علیہ السّلام تو شریعت اسرائیلیہ کے خدّام میں سے اور سلسلہ موسویہ کے انبیاء میں سے تھے۔اور انہیں کوئی کامل اور مستقل شریعت نہیں دی گئی تھی اور نہ ہی ان کی کتاب میں حلال و حرام ، وراثت ، نکاح وغیرہ کے مسائل تھے بقیۃ الحاشیۃ۔زعمہ ھٰذا الّا باطلًا وانّ کذبہ من اَجْلی البدیھیّات۔بل اُوْتی عیسٰی شریعۃً مستقلۃً بالذّات۔فاغنی الذین کانوا مجتمعین علیہ من شریعۃ الکلیم واقام الانجیل مقام التوراۃ فاعلم ان ھٰذا قولٌ لایخرج من فَمٍ اِلّامن فم الذی نُجس بنجاسۃ الجھل والجھلات۔وذاب انف فطنتہ بجذام التعصّبات۔وزعم ھٰذا الجاھل کانّہ یستدل علی دعواہ بالفرقان الذی ھوالحَکَم عند الخصومات۔وقرء قولہ تعالٰی۔ ۔۱؎ (ترجمہ بقیہ حاشیہ)کلمات سے یاد کیا۔اور کہا کہ یہ شخص خیال کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متبعین سے تھے اور اس کا خیال باطل ہے اور اس کا جھوٹ اجلٰی بدیہیات سے ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو ذاتی طور پر ایک مستقل شریعت عطا کی گئی تھی اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے انہیں آپ کی شریعت ِکلیمیّہ سے مستعنی کر دیا۔اور آپ نے انجیل کو تورات کی جگہ رکھا۔پس جان لے کہ یہ بات اس مُنہ سے نکل سکتی ہے جو جہالت کی پلیدی سے ملوث ہو۔اور جس کی سمجھ اور فہم کا ناک تعصب کے جذام سے گل سٹر گیا ہو۔اس جاہل نے خیال کیاہے کہ گویا اپنے اس دعویٰ پر قرآن کریم سے جو تمام جھگڑوں میںبطور حَکَم ہے استدلال کرتا ہے اور اس نے ( اپنے دعویٰ کے ثبوت میں) یہ آیات پڑھیں۔ ۔۱؎ المائدۃ : ۴۷، ۴۸