مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 175
مجموعه اشتہارات ۱۷۵ جلد سوم بی اے پلیڈر مقرر ہوں ۔ اور ان ہر دو صاحبان نے اس خدمت کو قبول کر لیا ہے۔ امر دوم سرمایہ ہے۔ سواس کے متعلق بالفعل کسی قسم کی رائے زنی نہیں ہو سکتی ۔ اور یہی ایک بڑا بھاری امر ہے جو سو چنے کے لائق ہے۔ اس لئے قرین مصلحت یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک مجلس دوستوں کی منعقد کر کے اس کے متعلق بحث کی جائے اور جو طریق بہتر اور اولی معلوم ہو وہی اختیار کیا جائے مگر یہ بات ظاہر کرنے کے لائق ہے کہ مجھے اس سرمایہ کے انتظام میں کچھ دخل نہیں ہوگا ۔ اور غالباً اس کو ایک امر تجارتی تصور کر کے ایسے ممبر مقرر کئے جائیں گے جو اس تجارت کے حصہ دار ہوں گے اور انہی کی تجویز اور مشورہ سے جس طور سے مناسب سمجھیں گے یہ روپیہ جمع ہو کر کسی بینک میں جمع کیا جاوے گا۔ لیکن چونکہ ایسے مامور صرف اشتہارات سے تصفیہ نہیں پاسکتے لہذا میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اس جلسہ کے لئے بڑی عید کا دن قرار پاوے اور جہاں تک ممکن ہو سکے ہمارے دوست کوشش کریں کہ اس دن قادیان پہنچ جائیں۔ تب سرمایہ کے متعلق بحث اور گفتگو ہو جائے گی کہ کسی طور سے یہ سرمایہ جمع ہونا چاہیے۔ اور اس کے خرچ کے لئے انتظام کیا ہوگا۔ یہ سب حاضرین جلسہ کی کثرت رائے پر فیصلہ ہوگا۔ بالفعل اس کا ذکر قبل از وقت ہے۔ ہاں ہر ایک صاحب کو چاہیے کہ اس رائے کے ظاہر کرنے کے لئے طیار ہو کر آئیں۔ اور یہ یاد رکھیں کہ یہ چندہ صرف تجارتی طور پر ہوگا۔ اور ہر ایک چندہ دینے والا بقدر اپنے روپیہ کے اپنا حق اس تجارت میں قائم کرے گا۔ اور اس کے ہر ایک پہلو پر بحث جلسہ کے وقت میں ہوگی ۔ یہ خیراتی چندہ نہیں ہے۔ ایک طور کی تجارت ہے جس میں شراکت صرف دینی تائید تک ہے۔اس سے زیادہ کوئی امر نہیں ہے۔ والسلام۔ اس امر کے متعلق خط و کتابت خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈ ر پشاور سے کی جائے۔ المش تهر مرزاغلام احمد از قادیان ۱۵ جنوری ۱۹۰۱ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان یہ اشتہار ایک صفحہ کا فل سکیپ سائز پر ہے ) تبلیغ رسالت جلده اصفحه ۱ تا ۳ )