مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 173
طبع نے میری جماعت کو اس کا قاتل قرار دیا ہے حالانکہ وہ ایک بڑا نشان تھا جو ظہور میں آیا اور ایک میری پیشگوئی تھی جو پوری ہوئی۔تو یہ تو بتلا ویں کہ مولوی غلام دستگیر کو میری جماعت میں سے کس نے مارا؟ کیا یہ سچ نہیں کہ وہ بغیر میری درخواست کے آپ ہی ایسی دعا کر کے دنیا سے کوچ کر گیا۔کوئی زمین پر مَر نہیں سکتا جب تک آسمان پر نہ مارا جائے میری رُوح میں وہی سچائی ہے جو ابراہیم علیہ السّلام کو دی گئی تھی۔مجھے خدا سے ابراہیمی نسبت ہے۔کوئی میرے بھید کو نہیں جانتا مگر میرا خدا۔مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔مَیں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اُکھڑ سکوں۔اگر اُن کے پہلے اور ان کے پچھلے اور ان کے زندے اور ان کے مُردے تمام جمع ہو جائیں اور میرے مارنے کے لئے دُعائیں کریں تو میرا خدا اُن تمام دعائوں کو لعنت کی شکل پر بنا کر اُن کے مُنہ پر مارے گا۔دیکھو صد ہا دانش مند آدمی آپ لوگوں کی جماعت میں سے نکل کر ہماری جماعت میں ملتے جاتے ہیں۔آسمان پر ایک شور برپا ہے اور فرشتے پاک دلوں کو کھینچ کر اس طرف لا رہے ہیں۔اب اس آسمانی کارروائی کو کیا انسان روک سکتا ہے؟ بھلا اگر کچھ طاقت ہے تو روکو وہ تمام مکرو فریب جو نبیوں کے مخالف کرتے رہے ہیں وہ سب کرو اور کوئی تدبیر اُٹھا نہ رکھو ناخنوںتک زور لگائو۔اتنی بد دُعائیں کرو کہ موت تک پہنچ جائو۔پھر دیکھو کہ کیا بگاڑ سکتے ہو؟ خدا کے آسمانی نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں مگر بد قسمت انسان دُور سے اعتراض کرتے ہیں جن دلوں پر مُہریں ہیں اُن کا کیا ہم علاج کریں۔اے خدا! تُو اس امت پر رحم کر۔آمین المشتھــــــــــــــــــــــر خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۹؍ دسمبر ۱۹۰۰ء (مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان ) (ضمیمہ اربعین نمبر۳،۴ صفحہ ۱ تا۷ مطبوعہ ۱۹۰۰ء۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۴۶۸ تا۴۷۳)