مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 172

مجموعه اشتہارات ۱۷۲ جلد سوم طرح گداز ہو کر جلد مرجاتے ہیں یا کارپین کل یعنی سرطان سے اُن کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو پھر جس زور سے میں ایسی حالت پر خطر میں تبلیغ میں مشغول ہوں کیا کسی مفتری کا کام ہے۔ جب میں بدن کے اوپر کے حصہ میں ایک بیماری اور بدن کے نیچے کے حصہ میں ایک دوسری بیماری دیکھتا ہوں تو میرا دل محسوس کرتا ہے کہ یہ وہی دو چادریں ہیں جن کی خبر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ میں محض نصحت اللہ مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔ اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی ۔ لیکن اگر مجھے آپ لوگ کا ذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بد دعائیں کریں اور رو رو کر میرا استیصال چاہیں ۔ پھر اگر میں کا ذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی۔ اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں۔ لیکن یا درکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعا ئیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرت گریہ وزاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعا ئیں سنی نہیں جائیں گی کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں ۔ جو شخص میرے پر بددعا کرے گا وہ بد دعا اسی پر پڑے گی۔ جو شخص میری نسبت یہ کہتا ہے کہ اس پر لعنت ہو وہ لعنت اس کے دل پر پڑتی ہے مگر اس کوخبر نہیں۔ اور جو شخص میرے ساتھ اپنی کشتی قرار دے کر یہ دعائیں کرتا ہے کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے۔ اس کا نتیجہ وہی ہے جو مولوی غلام دستگیر قصوری نے دیکھ لیا۔ کیونکہ اس نے عام طور پر شائع کر دیا تھا کہ مرزا دکھایا۔ کیونکہاس طورپر شائع کر دیا مرز ں نے عام غلام احمد اگر جھوٹا ہے۔ اور ضرور جھوٹا ہے تو وہ مجھ سے پہلے مرے گا اور اگر میں جھوٹا ہوں تو میں پہلے مر جاؤں گا اور یہی دعا بھی کی تو پھر آپ ہی چند روز کے بعد مر گیا۔ اگر وہ کتاب چھپ کر شائع نہ ہو جاتی تو اس واقعہ پر کون اعتبار کر سکتا۔ مگر اب تو وہ اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا۔ پس ہر ایک شخص جو ایسا مقابلہ کرے گا اور ایسے طور کی دعا کرے گا تو وہ ضرور غلام دستگیر کی طرح میری سچائی کا گواہ بن جائے گا۔ بھلا سوچنے کا مقام ہے کہ اگر لیکھرام کے مارے جانے کی نسبت بعض شریروں ظالم