مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 163
مجموعه اشتہارات ۱۶۳ جلد سوم میں آیا۔ اور آسمان نے اس پر گواہی دی اور بہت سے نشان ظہور میں آئے لیکن تب بھی اکثر مسلمانوں نے اس کو قبول نہ کیا بلکہ اس کا نام کافر اور دجال اور بے ایمان اور مکار اور خائن اور درونگو اور عہد شکن اور مال خور اور ظالم اور لوگوں کے حقوق دبانے ولا اور انگریزوں کی خوشامد کرنے والا رکھا اور جوجو کھا اور جو چاہا اس کے ساتھ سلوک کیا۔ اور بہتوں نے یہ عذر پیش کیا کہ جو الہامات اس شخص کو ہوتے ہیں وہ سب شیطانی ہیں یا اپنے نفس کا افترا ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ ہم بھی خدا سے الہام ۱۰۰ بقیہ حاشیہ۔ کے نام جو پیش کرتے ہیں یہ تصریح اور تعیین وحی کے رو سے نہیں صرف اجتہادی خیال ہے ۔ اور وہ نشان جو خدا نے میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائے وہ سو سے بھی زیادہ ہیں جو کتاب تریاق القلوب میں درج کئے گئے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ ہمارے مخالف ان پہلے منکروں کی طرح بن گئے ہیں جو بار بار حدیبیہ کے متعلق کی پیشگوئی کو پیش کرتے تھے یا ان یہود کی طرح جو حضرت مسیح کی تکذیب کے لئے اب تک یہ اُن کی پیشگوئیاں پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ میں داؤد کا تخت قائم کروں گا اور نیز یہ پیشگوئی کی تھی کہ ابھی بعض لوگ زندہ ہوں گے جو میں واپس آؤں گا ۔ ایسا ہی یہ لوگ بھی ان تمام پیشگوئیوں پر نظر نہیں ڈالتے جو ایک سوا سے بھی زیادہ پوری ہو چکی ہیں اور ملک میں شائع ہو چکیں ۔ اور جو دو ایک پیشگوئی باعث ان کی غباوت اور کمی توجہ کے ان کو سمجھ نہیں آئیں ۔ بار بار انہیں کا راگ گاتے رہتے ہیں نہیں سوچتے کہ اگر اس طور پر تکذیب جائز ہے تو اس صورت میں یہ اعتراض تمام نبیوں پر ہوگا اور ان کی پیشگوئیوں پر ایمان لانے کی راہ بند ہو جائے گی مثلاً جو شخص آتھم کی پیشگوئی یا احمد بیگ کے داماد کی پیشگوئی پر اعتراض کرتا ہے کیا وہ حدیبیہ کے متعلق کی پیشگوئی کو بھول گیا ہے جس پر یقین کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر کثیر کے ساتھ مکہ معظمہ کا سفر اختیار فرمایا تھا۔ اور کیا یونس نبی کی پیشگوئی چالیس دن والی یا د نہیں رہی ۔ افسوس کہ میری تکذیب کی وجہ سے مولوی عبداللہ غزنوی کی پیشگوئی کی بھی خوب عزت کی کہ قادیان پر نور نازل ہوا اور وہ نور مرزا غلام احمد ہے جس سے میری اولاد محروم رہ گئی ) اولاد میں مُرید بھی داخل ہیں ۔ اور پھر جس حالت میں