مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 162

۲۳۸ اسلام کے لیے ایک رُوحانی مقابلہ کی ضرورت (ملحقہ اربعین نمبر ۴) اَیُّہَا النَّاظرین! انصافاً اور ایماناً سوچو کہ آج کل اسلام کیسے تنزّل کی حالت میں ہے اور جس طرح ایک بچہ بھیڑیئے کے منہ میں ایک خطر ناک حالت میں ہو تا ہے۔یہی حالت ان دنوں میں اسلام کی ہے۔اور دو آفتوں کا سامنا اس کو پیش آیا ہے۔(۱)ایک تو اندرونی کہ تفرقہ اور باہمی نفاق حد سے بڑھ گیا ہے اور ایک فرقہ دوسرے فرقہ پر دانت پیس رہا ہے۔(۲)دوسرے بیرونی حملے دلائل باطلہ کے رنگ میں اس زور شور سے ہو رہے ہیں کہ جب سے آدم پیدا ہوا یا یُوں کہو کہ جب سے نبوت کی بنیاد پڑی ہے۔ان حملوں کی نظیر دُنیا میں نہیں پائی جاتی۔اسلام وہ مذہب تھا جس میں آدمی کے مرتد ہو جانے سے قومِ اسلام میں نمونہ ئِ محشر برپا ہوتا تھا اور غیر ممکن سمجھا گیا تھا کہ کوئی شخص حلاوتِ اسلام چکھ کر پھر مُرتد ہو جائے۔اور اب اسی ملک برٹش انڈیا میں ہزار ہا مُرتد پائو گے بلکہ ایسے بھی جنہوں نے اسلام کی توہین اور رسول کریم کی سبّ وشتم میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔پھر آج کل علاوہ اس کے یہ آفت برپا ہو گئی ہے کہ جب عین صدی کے سر پر خدا تعالیٰ نے تجدید ۱؎ اور اصلاح کے لئے اورخدمات ضروریہ کے مناسب ِحال ایک بندہ بھیجا اور اس کا نام مسیح موعود رکھا۔یہ خدا کا فعل تھا جو عین ضرورت کے دنوں میں ظہور ۱؎ اس حدیث کو تمام اکابر اہل ِسنت مانتے چلے آئے ہیں کہ ہر یک صدی کے سرپر مجدد پیدا ہو گا۔مگر مجددین