مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 149
مہر علی شاہ کو آسمان پر چڑھایا ہوا ہوتا ہے اور میری نسبت گالیوںسے کاغذ بھرا ہوا ہوتا ہے اور عوام کو دھوکہ پر دھوکہ دے رہے ہیں اور میری نسبت کہتے ہیں کہ دیکھو اس شخص نے کس قدر ظلم کیا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب جیسے مقدس انسان بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے صعوبت سفر اُٹھا کر لاہور میںپہنچے مگر یہ شخص اس بات پر اطلاع پاکر درحقیقت وہ بزرگ نابغہ زمان اور سحبان دوران اور علم معارف قرآن میں لاثانی روز گارہیں اپنے گھر کے کسی کوٹھہ میں چھپ گیا ورنہ حضرت پیر صاحب کی طرف سے معارف قرآنی کے بیان کرنے اور عربی کی بلاغت فصاحت دکھلانے میں بڑا نشان ظاہر ہوتا۔لہذا آج میرے دل میں ایک تجویز خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی جس کو مَیں اتمام حجت کے لئے پیش کرتا ہوں اور یقین ہے کہ پیر مہر علی صاحب کی حقیقت اس سے کھُل جائے گی کیونکہ تمام دُنیا اندھی نہیں ہے۔انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو کچھ انصاف رکھتے ہیں۔اور وہ تدبیریہ ہے کہ آج بقیہ حاشیہ : کچھ حصّہ رکھتے ہیں جیسا کہ وہ دعویٰ کر بیٹھے ہیں۔تو اب چارجز عربی تفسیر سورۃ فاتحہ کی ایک لمبی مہلت ستر ۷۰دن میں اپنے گھر میں ہی بیٹھ کر اور دوسروں کی مدد بھی لے کر میرے مقابل پر لکھنا ان کے لئے کیا مشکل بات ہے۔ان کی حمایت کرنے والے اگر ایمان سے حمایت کرتے ہیں تو اب تو اُن پر زور دیں ورنہ ہماری یہ دعوت آئندہ نسلوں کے لئے بھی ایک چمکتا ہوا ثبوت ہماری طرف سے ہو گا کہ اس قدر ہم نے اس مقابلہ کے لئے کوشش کی۔پانسو ۵۰۰روپیہ انعام دینا بھی کیا لیکن پیر صاحب اور ان کے حامیوںنے اس طرف رُخ نہ کیا۔ظاہر ہے کہ اگر بالفرض کوئی کُشتی د۲و پہلوانوں کی مشتبہ ہو جائے تو دوسری مرتبہ کشتی کرائی جاتی ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ایک فریق تو اس دوبارہ کُشتی کے لئے کھڑا ہے تا احمق انسانوں کا شبہ دُور ہو جائے اور دوسراشخص جیتتا ہے اور میدان میں اس کے مقابل پر کھڑا نہیں ہوتا اور بے ہودہ عذر پیش کرتا ہے۔ناظرین برائے خدا ذرا سوچو کہ کیا یہ عذر بد نیتی سے خالی ہے کہ پہلے مجھ سے منقولی بحث کرو۔پھر اپنے تین۳ دشمنوں کی مخالفانہ گواہی پر میری بیعت بھی کر لو اور اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ تمہارا خدا سے وعدہ ہے کہ ایسی بحثیں مَیں کبھی نہ کروں گا۔پھر بیعت کرنے کے بعد بالمقابل تفسیر لکھنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔یہ پیر صاحب کا جواب ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شرط دعوت منظور کر لی تھی۔منہ