مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 142

تب خدا نے حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد اپنا مسیح بھیجا جو لڑائیوں کا سخت مخالف تھا۔وہ درحقیقت صلح کا شہزادہ تھا اور صلح کا پیغام لایا لیکن بد قسمت یہودیوں نے اس کا قدر نہ کیا۔اس لئے خدا کے غضب سے عیسیٰ مسیح کو اسرائیلی نبوت کے لئے آخری اینٹ کر دیا اور اس کو بے باپ پیدا کر کے سمجھا دیا کہ اب نبوت اسرائیل میں سے گئی۔تب خدا وند نے یہودیوں کو نالائق پا کر ابراہیم کے دوسرے فرزندکی طرف رُخ کیا۔یعنی اسمٰعیل کی اولاد میں سے پیغمبر آخر الزّمان پیدا کیا۔یہی مثیل موسیٰ تھا جس کا نام محمدؐ ہے۔اس نام کا ترجمہ یہ ہے کہ نہایت تعریف کیا گیا۔خدا جانتا تھا کہ بہت سے نا فہم مذمت کرنے والے پیدا ہوں گے اس لئے اس کا نام محمدؐ رکھ دیا جبکہ آنحضرت شکمِ آمنہ عفیفہ میں تھے۔تب فرشتہ نے آمنہ پر ظاہر ہو کر کہا تھا کہ تیرے پیٹ میں ایک لڑکا ہے جو عظیم الشّان نبی ہو گا۔اس کا نام محمد رکھنا۔غرض آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ کی طرح اپنی قوم کے راست بازوں کو درندوں اور خونیوں سے نجات دی۔اور موسیٰ کی طرح ان کو مکّہ سے مدینہ کی طرف کھینچ لایا۔اور ابوجہل کو جو اس امت کا فرعون تھا بدر کے میدان جنگ میں ہلاک کیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توریت باب ۱۸ آیت ۱۸ کے وعدہ کے موافق موسیٰ کی طرح ایک نئی شریعت ان لوگوں کو عطا کی جو کئی سَو برس سے جاہل اور وحشی چلے آتے تھے اور جیسے بنی اسرائیل چار سو برس تک فرعون کی غلامی میں رہ کر وحشیوں کی طرح ہو گئے تھے۔یہ لوگ بھی عرب کے جنگلوں میں رہ کر ان سے کم نہ تھے بلکہ وحشیانہ حالت میں بہت بڑھ گئے تھے یہاں تک کہ حلال حرام میں بھی کچھ فرق نہیں کر سکتے تھے۔پس ان لوگوں کے لئے قرآن شریف بالکل ایک نئی شریعت تھی اور اُسی شریعت کے موافق تھی جو کوہ سینا پر بنی اسرائیل کو ملی تھی۔تیسر۳ی مماثلت حضرت محمد مصطفیٰ صلے اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ سے یہ تھی کہ جیسا کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کو ہلاک کر کے اپنی قوم کو سلطنت عطا کی تھی اسی طرح آنحضرت ـصلے اللہ علیہ وسلم نے بھی مثیل فرعون یعنی ابو جہل کو جو والی مکہ سمجھا جاتا تھا اور