مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 141

سے بھر گئے تھے۔اور سخت دلی اُن کی عادت ہو گئی تھی اور سرحدی افغانوں کی طرح وہ لوگ بھی دوسروں کو قتل کر کے بڑا ثواب سمجھتے تھے۔گویا بہشت کی کُنجی بے گناہ انسانوں کو قتل کرنا تھا بقیہ حاشیہ۔نبی نبیوں میں سے خدا کا پیار ا نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی ولی ولیوں میں سے اس کا محبوب ٹھہر سکتا ہے۔جب تک کہ ایک مرتبہ موت کا خوف یا موت کے مشابہ اُس پر ایک واقعہ واردنہ ہو لے اور اسی پر سُنّت اللہ قدیم سے جاری ہے۔جب ابراہیم آگ میں ڈالا گیا تو کیا یہ نظارہ صلیب کے واقعہ سے کچھ کم تھا۔اور جب اس کو حکم ہوا کہ تُو اپنے پیارے فرزند کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر۔تو کیا یہ واقعہ ابراہیم کے لئے اور اس کے اس فرزند کے لئے جس پر چھری چلائی گئی سُولی کی دہشت سے کچھ کم درجہ پر تھا۔اور یعقوب کے خوف کا وہ نظارہ جبکہ اس کو سُنایا گیا کہ تیرا پیار ا فرزند یوسف بھیڑیئے کا لقمہ ہو گیا۔اور اس کے آگے یوسف کا مصنوعی طورپر خون آلودہ کُڑتہ ڈال دیا گیا اور پھر مدّت دراز تک یعقوب کو ایک مسلسل غم میں ڈالا گیا۔کیا یہ نظارہ بھی کچھ کم تھا۔اور جب یوسف کو مشکیں باندھ کر کوئیں میں پھینک دیا گیا تو کیا یہ دردناک نظارہ اس نظارہ سے کچھ کم تھا۔جب مسیح کو صلیب پر چڑھایا گیا۔اور پھر کیا نبی آخرالزمان کی مصیبت کا وہ نظارہ کہ جب غار ثور کا ننگی تلواروں کے ساتھ محاصر ہ کیا گیا کہ اسی غار میں وہ شخص ہے جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اس کو پکڑو اور قتل کرو۔تو کیا یہ نظارہ اپنی رُعبناک کیفیت میں صلیبی نظار ہ سے کچھ کم تھا۔اور کیا ابھی اسی زمانہ کا یہ نظارہ کہ جب ڈاکٹر مارٹن کلارک نے مثیل مسیح پر جو یہی عاجزہے، اقدام قتل کا ایک جھوٹا دعویٰ کیا اور تینوں قوموں ہندوئوں اور مسلمانوں اور عیسائیوں میں سے سربرآوردہ علماء کوشش کرتے تھے کہ یہ سزا پاوے تو کیا یہ نظارہ مسیح کے صلیبی نظارہ سے کچھ مشابہت نہیں رکھتا تھا۔پس سچ بات یہ ہے کہ ہر ایک جو خدا کے پیار کا دعویٰ کرتا ہے ایک وقت میں ایک حالت موت کے مشابہ ضرور اس پر آ جاتی ہے۔سو اسی سنّت اللہ کے موافق مسیح پر بھی وہ حالت آ گئی۔مگر جتنی نظیریں ہم نے پیش کی ہیں وہ گواہی دے رہی ہیں کہ ان تمام نبیوں میں سے ایسے امتحان کے وقت کوئی بھی نبی ہلاک نہیں ہوا۔آخر قریب موت پہنچ کر جبکہ اس کے روحوں سے ایلی ایلی لما سبقتانی کا نعرہ نکلا تب یک مرتبہ خدا کے فضل نے اُن کو بچا لیا۔پس جس طرح ابراہیم آگ سے اور یوسف کوئیں سے اور ابراہیم کا ایک پیارا بیٹا ذبح سے اور اسمٰعیل پیاس کی موت سے بچ گیا اسی طرح مسیح بھی صلیب سے بچ گیا۔وہ موت کا حملہ ہلاک کرنے کے لئے نہیں تھا۔بلکہ ایک نشان دکھلانے کے لئے تھا۔منہ