مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 138
بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہر گز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے لڑائیاں کی جائیں یا دین کے بغض اور دشمنی کی وجہ سے کسی کو قتل کیا جائے یا کسی اور نوع کی ایذادی جائے یا کسی انسانی ہمدردی کا حق بوجہ کسی اجنبیت مذہب کے ترک کیا جائے۔یا کسی قسم کی بے رحمی اور تکبّر اور لا پرواہی دکھلائی جائے بلکہ جو شخص عام مسلمانوں میں سے ہماری جماعت میں داخل ہو جائے اس کا پہلا فرض یہی ہے کہ جیسا کہ وہ قرآن شریف کے سورہ فاتحہ میں پنجوقت اپنی نماز میںیہ اقرار کرتا ہے کہ خدا ربّ العالمین ہے اور خدا رحمان ہے اور خدا رحیم ہے اور خدا ٹھیک ٹھیک انصاف کرنے والا ہے، یہی چاروں صفتیں اپنے اندر بھی قائم کرے۔ورنہ وہ اس دُعا میں کہ اسی سُورت میں پنجوقت اپنی نماز میں کہتا ہے کہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ یعنی اے ان چاروں صفتوں والے اللہ میں تیرا ہی پرستار ہوں اور تو ہی مجھے پسند آیا ہے۔سراسر جھوٹا ہے کیونکہ خدا کی ربوبیّت یعنی نوع انسان اور نیز غیر انسان کا مربی بننا اور ادنیٰ سے ادنیٰ جانور کو بھی اپنی مربیانہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ ایک ایسا امر ہے کہ اگر ایک خدا کی عبادت کا دعویٰ کرنے والا خدا کی اس صفت کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کو پسند کرتا ہے یہاں تک کہ کمال محبت سے اس الہٰی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ آپ بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر حاصل کر لے تا اپنے محب کے رنگ میں آ جائے۔ایسا ہی خدا کی رحمانیت یعنی بغیر عوض کسی خدمت کے مخلوق پر رحم کرنا یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عابد جس کو یہ دعویٰ ہے کہ مَیںخدا کے نقشِ قدم پر چلتا ہوں ضرور یہ ُخلق بھی اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ایسا ہی خدا کی رحیمیت یعنی کسی کے نیک کام میں اس کام کی تکمیل کے لئے مدد کرنا۔یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عابد جو خدا کی صفات کا عاشق ہے اس صفت کو اپنے اندر حاصل کرتا ہے۔ایسا ہی خدا کا انصاف جس نے ہر ایک حکم عدالت کے تقاضا سے دیا ہے نہ نفس کے جوش سے۔یہ بھی ایک ایسی صفت ہے کہ سچا عابد کہ جو تمام الٰہی صفات اپنے اندر لینا چاہتا ہے اس صفت کو چھوڑ نہیں سکتا اور راستباز کی خود بھاری نشانی یہی ہے