مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 132
لکھوں گا۔اور (۱) پہلے اس طرح پر قرعہ اندازی کی جائے گی کہ تمام قرآنی سُورتوں کے متفرق پرچوں پر نام لکھ کر فریقین میں سے ایک فریق کی جھولی میںڈال دیئے جائیں گے اور وہ فریق ان پرچوں کو پوشیدہ رکھے گا اور دوسرا فریق اس جھولی میں ہاتھ ڈال کر ایک پرچہ نکال لے گا اور اس پرچہ کی سورۃ اگر بہت لمبی ہو گی تو اس میں سے چالیس آیت تک یا پوری سورۃ اگر چالیس آیت سے زیادہ نہ ہو تفسیر لکھنے کے لئے اختیار کی جائے گی۔(۲)فریقین کا اختیار ہو گا کہ اپنی تسلّی کے لئے ایک دوسرے کی بخوبی تلاشی لے لیں تا کہ کوئی پوشیدہ کتاب ساتھ نہ ہو اور یہ امر موجب رنج نہ سمجھا جائے گا۔(۳)اگر کوئی فریق کسی ضروری حاجت کے لئے باہر جانا چاہے تو دوسرے فریق کا کوئی نگرانی کرنے والا اس کے ساتھ ہو گا اور وہ تین آدمی سے زیادہ نہ ہوں گے۔(۴)ہر گزجائز نہ ہو گا کہ تفسیر لکھنے کے وقت کسی فریق کو کوئی دوسرا مولوی مل سکے بجز کسی ایسے نوکر کے جو مثلاًپانی پلانا چاہتا ہے اور فی الفور خدمت کے بعد واپس جانا ہو گا۔(۵)فریقین ایک دوسرے کے مقابل صرف دو تین ہاتھ کے فاصلہ پر بیٹھیں گے اس سے زیادہ دُوری نہیں ہوگی تا وہ دونوں ایک دوسرے کے حالات کے نگران رہ سکیں۔اگر کسی فریق کی کوئی خیانت ثابت ہو تو مقابلہ اسی جگہ ختم ہو جائے گا اور اس فریق کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو اس حالت میں کیا جاتا جو وہ مغلوب رہتا۔(۶)ہر ایک فریق اپنی تفسیر کے دو دو ورق لکھ کر ان کی نقل فریق ثانی کو بعد دستخط دیتا رہے گا۔اور اسی طرح اخیر تک دو دو ورق دیتا جائے گا۔تایک دفعہ نقل لکھنے میں کسی خیانت کا کسی فریق کو موقع نہ ملے۔(۷)تفسیر کے بہرحال بیس ورق ہو ں گے اس قلم اور تقطیع کے موافق جو مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی کا قرآن شریف شائع ہوا ہے (۸)صبح کے چھ بجے سے ایک بجے تک یا اگر کوئی ہرجہ پیش آ جائے تو دو بجے تک دونوں فریق لکھتے رہیں گے۔(۹)ہر گز اختیار نہ ہو گا کہ کوئی فریق اپنے پاس کوئی کتاب رکھے یا کسی مددگار کو پاس بٹھاوے یا کسی اشارہ کنایہ سے مدد لے۔(۱۰)تفسیر میں کوئی غیر متعلق بات نہیں لکھی جائے گی۔صرف قرآن شریف کی اُن آیا ت کی تفسیر ہو گی جو قرعہ اندازی سے نکلی ہیں۔اگر کوئی اس شرط کی